بلوچستان ہائیکورٹ: ٹرانسپورٹ پر پابندی کا حکم فوری واپس لینے اور محفوظ علاقوں میں انٹرنیٹ بحال کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
بلوچستان ہائیکورٹ نے پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی اور موبائل انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا حکم دیدیا۔
بلوچستان ہائیکورٹ میں پبلک ٹرانسپورٹ اور موبائل انٹرنیٹ سروس کی بندش سے متعلق درخواست پر سماعت چیف جسٹس روزی خان بڑیچ اور جسٹس سردار احمد حلیمی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کی۔
سماعت کے دوران عدالت نے صوبائی حکومت کو ہدایت دی کہ پبلک ٹرانسپورٹ پر عائد پابندی سے متعلق جاری حکم نامہ فوری طور پر واپس لیا جائے تاکہ عوام کو سفری مشکلات کا سامنا نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیے بلوچستان ہائیکورٹ میں موبائل انٹرنیٹ کی بندش پر سماعت، سیکریٹری داخلہ اور پی ٹی اے کے افسران طلب
عدالت نے مزید حکم دیا کہ صوبے کے وہ علاقے جہاں سیکورٹی خدشات نہیں پائے جاتے، وہاں موبائل انٹرنیٹ سروس فوراً بحال کی جائے۔ ساتھ ہی بلوچستان حکومت کو ہدایت کی گئی کہ صوبے بھر میں 31 اگست تک موبائل انٹرنیٹ بند رکھنے کے نوٹیفکیشن پر دوبارہ غور کیا جائے اور اس پر مناسب فیصلہ کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیے بلوچستان اسمبلی میں موبائل انٹرنیٹ بندش کے خلاف تحریک التوا جمع
بلوچستان ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت 21 اگست تک ملتوی کر دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلوچستان ہائیکورٹ پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی جسٹس سردار احمد حلیمی چیف جسٹس روزی خان موبائل انٹرنیٹ سروس پر پابندی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان ہائیکورٹ پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی جسٹس سردار احمد حلیمی چیف جسٹس روزی خان موبائل انٹرنیٹ سروس پر پابندی موبائل انٹرنیٹ سروس بلوچستان ہائیکورٹ پبلک ٹرانسپورٹ ٹرانسپورٹ پر پر پابندی
پڑھیں:
پاکستان کے کروڑوں غریب موبائل صارفین کے لئے خطرے کی گھنٹی بج گئی
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان کے کروڑوں غریب موبائل صارفین کیلئے خطرے کی گھنٹی، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ذمہ دار ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت کی مجوزہ 2G فیچر فونز کی مقامی مینوفیکچرنگ کو مرحلہ وار ختم یا محدود کرنے کی تجویز شامل ہے، جس پر ملک کی موبائل فون صنعت نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ ایسا فیصلہ پاکستان کے کروڑوں کم آمدنی والے موبائل صارفین اور مقامی مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
نجی چینل کو دستیاب دستاویزات کے مطابق پاکستان موبائل فون مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار کو ارسال کیے گئے ایک تفصیلی خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ مجوزہ پالیسی کے کلاز 7.1 کے تحت 2G فیچر فونز کی تیاری محدود کرنے کی تجویز زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی اور اس پر فوری نظرثانی کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں۔بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلیے اقدامات کر رہے ہیں، وزیراعظم