یوسف رضا گیلانی کا بارشوں اورکلاؤڈ برسٹ کے باعث جانی و مالی نقصان پر گہرے رنج و غم کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 اگست2025ء)چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے مظفرآباد اور باجوڑ میں کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات اور حالیہ بارشوں کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں پیش آنے والے سانحات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔چیئرمین سینیٹ نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ قدرتی آفات ایک کڑی آزمائش ہوتی ہیں اور ایسے مواقع پر ہمیں بطور قوم یکجہتی، ہمدردی اور تعاون کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں پوری قوم شریک ہے اور ہم ان کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔سید یوسف رضا گیلانی نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، متعلقہ اداروں اور ریسکیو ٹیموں کو ہدایت کی کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو تیز کیا جائے، زخمیوں کو فوری طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور بے گھر ہونے والے خاندانوں کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔(جاری ہے)
چیئرمین سینیٹ نے جاں بحق ہونے والے افراد کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا کی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین کی بحالی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس مشکل وقت میں تمام سیاسی و سماجی قوتوں کو اپنے اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے متاثرین کی مدد کے لیے آگے آنا چاہیے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ متاثرہ علاقوں میں بسنے والے بھائی بہنوں کی امداد کے لیے دل کھول کر تعاون کریں تاکہ وہ اس کٹھن صورتحال سے جلد از جلد نکل سکیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے نے والے کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔