واشنگٹن میں بھارتی یوم آزادی پر سکھوں کا شدید احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
واشنگٹن میں بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر سکھ برادری نے زبردست احتجاج کیا جس میں انہوں نے بھارتی سفارتخانے کو گھیرلیا۔
مظاہرین کے ہاتھوں میں خالصتان کے پرچم تھے اور وہ بھارت مخالف نعرے بلند کرتے رہے۔ انہوں نے ’’بھارت مردہ باد‘‘ اور ’’قاتل مودی‘‘ کے نعرے لگائے جبکہ بھارتی ترنگے کو پھاڑ کر اس کے ٹکڑے سفارتخانے کے سامنے پھینک دیے۔
اس صورتحال نے بھارتی سفارتی عملے کو خوفزدہ کردیا جس پر پولیس کو فوری طور پر طلب کیا گیا۔ پولیس اہلکار کئی گھنٹوں تک موقع پر موجود رہے تاکہ حالات قابو میں رکھے جاسکیں۔
اس موقع پر خالصتان کونسل کے سربراہ ڈاکٹر سندھو نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگلے ہی دن واشنگٹن میں خالصتان ریفرنڈم منعقد ہوگا، جس میں ہزاروں سکھ شرکت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ وقت زیادہ دور نہیں جب بھارتی پنجاب کو آزاد کرا کے خالصتان قائم کیا جائے گا۔
بھارتی یومِ آزادی کی تقریب سفارتی فضا کو پرامن رکھنے کے بجائے ایک بڑے احتجاجی مظاہرے میں تبدیل ہوگئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
تہران / واشنگٹن: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے عراق کے ذریعے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ عارضی جنگ بندی اس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک بنیادی تنازعات، خصوصاً آبنائے ہرمز کے معاملے، کا حل پیش نہ کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق عراقی وزیراعظم علی الزیدی حالیہ دورۂ واشنگٹن کے بعد تہران پہنچے، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور امریکا کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق پیغام پہنچایا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی تجویز کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، تاہم ایرانی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ مختصر یا عارضی جنگ بندی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور دیگر اہم معاملات پر کوئی واضح پیش رفت شامل نہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس حوالے سے کہا کہ عراقی وزیراعظم نے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں اور اپنے مشاہدات سے ایران کو آگاہ کیا، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان پہلے ہی مختلف ممالک ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ پیغامات کی ترسیل نہیں بلکہ امریکا کا رویہ ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا غیرمنطقی، لالچی اور دوسروں پر کنٹرول قائم کرنے والا طرزِ عمل موجودہ بحران کی بنیادی وجہ ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی اپنے بنیادی مطالبات پر قائم ہے اور کسی ایسے معاہدے پر آمادہ نہیں جو اس کے اسٹریٹجک مفادات کو نظر انداز کرے۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی حکومت نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ یا ایران کے مؤقف پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا تھا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عراق، قطر، پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کی ثالثی کی کوششیں بدستور جاری ہیں، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان اہم اختلافات برقرار رہنے کے باعث فوری پیش رفت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔