UrduPoint:
2026-07-24@03:49:34 GMT

پولیو کے مکمل خاتمے کی راہ میں کیا چیز رکاوٹ؟

اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT

پولیو کے مکمل خاتمے کی راہ میں کیا چیز رکاوٹ؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 16 اگست 2025ء) صغریٰ ایاز انسدادِ پولیو مہم کا حصہ ہیں۔ ان کا زیادہ تر وقت پاکستان کے جنوب مشرقی علاقوں میں بسنے والے خاندانوں کو پولیو کے خطرناک اثرات بتاتے ہوئے گزرتا ہے۔ اس دوران بچوں کے والدین ان سے اپنے خوف اور خدشات بھی بانٹتے ہیں۔ بعض یہ شکایت کرتے ہیں کہ انہیں ویکسین سے زیادہ پانی اور راشن کی ضرورت ہے، تو بعض دیگر والدین کو پولیو کے قطروں سے ہی مسئلہ ہے، کیونکہ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ پولیو کے قطروں سے ان کے بچوں میں 'بانچھ پن‘ کے اثرات نمایاں ہوسکتے ہیں۔


پاکستان: انسداد پولیو مہم کو بڑا دھچکا، رواں برس 11ویں کیس کا اندراج
بچوں کی جانیں بچانے والے پولیو ورکرز کی جانیں خطرے میں

واضح رہے کہ افغانستان اور پاکستان میں پولیو کی ویکسین سے متعلق غلط اور غیر تصدیق شدہ خبریں گردش کرتی رہتی ہیں۔

(جاری ہے)

یہ دنیا کہ دو ملک ہیں جہاں سے پولیو اب تک ختم نہیں کیا جاسکا۔ ایسے میں صغریٰ جیسے ملازمین کئی مرتبہ بدانتظامی سے متعلق مسائل کی نشاندہی بھی کرتے آئے ہیں لیکن اس پر اب تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

لیکن اب اس کیمپین سے جڑے افراد بتاتے ہیں کہ پولیو کے کیسز میں حالیہ اضافے کی بڑی وجوہات میں بدانتظامی اور ویکسین کو مناسب طور پر اسٹور نہ کرنا سرِفہرست ہے۔

صغری نے بتایا کہ پولیو کیمپین کو جلد کامیاب بنانے کے چکّر میں کئی مینیجرز اپنی ٹیم کو بچوں کو پولیو کے قطرے مکمل ہونے کا غلط نشان لگانے کا کہتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جن ویکسینز کو ٹھنڈا رکھنا ہوتا ہے، ان کو صحیح طریقے سے سٹور نہیں کیا جاتا۔

صغریٰ کے بقول، ’’ہمارا کام جس ایمانداری کے ساتھ ہونا چاہیے ویسے نہیں کیا جاتا۔‘‘

پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے 1980ء کی دہائی میں شروع کرنے والی مہم میں اب تک 20 ارب ڈالرز خرچ کیے جا چکے ہیں۔ تاہم پولیو کیمپین میں شامل افسران اور ماہرین پولیو کے مکمل خاتمے میں ناکامی کی کئی وجوہات بتاتے ہیں۔

تاہم عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر، ڈاکٹر جمال احمد کہتے ہیں کہ مشکلات کو بڑھا چڑھا کر نہ پیش کیا جائے: ''آج بہت سے بچے، 40 سال سے چلنے والی اسی کیمپین کے نتیجے میں صحت مند اور پولیو سے محفوظ ہیں۔

‘‘ ڈاکٹر احمد نے امید ظاہر کی کہ پولیو اگلے 12 سے 18 ماہ کے درمیان ختم کردیا جائے گا۔

لیکن دستاویزات اور زمینی حقائق کچھ اور بتاتے ہیں۔ اے ایف پی کو موصول ہونے والی معلومات کے مطابق 2017ء سے پولیو ورکرز نے متعدد بار ویکسین کے غلط ریکارڈ جمع کرنے، غیر تربیت یافتہ پولیو ورکرز کی بھرتی، اور ویکسین کو غلط طور پر ہینڈل کرنے جیسے معاملات کے بارے میں اپنے سینئیر افسران کو بتایا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے افسران نے بتایا کہ اکثر پولیو ورکرز کو ویکسین کو سنبھالنا نہیں آتا تھا، جبکہ کئی بار ویکسین اتنی استعمال نہیں کی جاتی تھی جتنا کہ دستاویزات میں لکھا ہوتا تھا۔

اس کے بارے میں ڈاکٹر ذوالفقار بھٹّہ نے، جو عالمی ادارہ صحت کے متعدد مشاورتی گروپوں کا حصہ رہے ہیں، کہا کہ کیمپین افسران کو اپنے ماتحت کام کرنے والوں کی تنقید سننی چاہیے: ''ایسی فرسودہ پالیسی پر اندھا اعتماد رکھنا جس سے اتنے سالوں میں کوئی حل نہیں نکل سکا ہے، وقت ضائع کرنے والی بات ہے۔

‘‘

دوسری جانب، پاکستان کے شہر کراچی میں پولیو ورکرز اپنی حفاظت کے بارے میں پریشان ہیں۔ یہاں بھی کیمپین کے دوران پولیو ٹیم کے ساتھ پولیس اہلکار موجود ہوتے ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق 1990 کی دہائی سے پولیو ٹیم کی نگرانی کرنے پر مامور 200 سے زیادہ پولیس اہلکار مارے جاچکے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کو عسکریت پسند گروہوں نے مارا۔

امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کی پروفیسر سویہ کلوثر کے مطابق پاکستان اور افغانستان میں پولیو مہم سے متعلق کبھی اتنی مزاحمت نہیں تھی جتنی آج ہے: ''پولیو کیمپین کو ایک بہت بڑا دھچکا امریکی سی آئی اے کی جعلی کییمپین سے لگا۔‘‘

افغانستان اور پاکستان میں کام کرنے والے پولیو ورکرز نے غلط اعداد وشمار کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈ میں کام کرنا خاصا مشکل ہے: ''ایک طرف معاشرتی رکاوٹیں ہیں، تو دوسری طرف پولیو ویکسین کے بارے میں غیر تصدیق شدہ اور من گھڑت باتوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

‘‘

افغانستان میں کام کرنے والے ایک پولیو ورکر نے بتایا، ''جب ہم ویکسین لگانے کے لیے دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں تو اکثر گھر میں مرد نہیں ہوتے اور یہ بات معیوب سمجھی جاتی ہے کہ غیر مرد دروازے پر دستک دے کر خواتین سے بات کریں۔‘‘

اکثر ویکسین سے متعلق غلط خبروں کے سبب لوگ بچوں کو پولیو کے قطرے پلوانے سے انکار کر دیتے ہیں۔

پولیو ورکرز کے مطابق ایک اور پولیو ورکر نے بتایا: ''یہ ساری باتیں ہم نے اپنے سینئیرز کو بتائی ہیں۔‘‘ صغری بتاتی ہیں کہ کئی بار بچوں کی چھوٹی انگلی پر نشان لگادیا جاتا ہے جبکہ انہیں ویکسین نہیں پلائی گئی ہوتی۔

دوسری جانب کچھ طبی ماہرین قطروں کی صورت میں ویکسین پلانے کے بھی خلاف ہیں۔ حالانکہ اورل ویکسین محفوظ اور موّثر ثابت ہوچکی ہے اور اب تک تین ارب بچوں کو پلائی بھی جاچکی ہے۔

طبی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس کے نتیجے میں دو کروڑ سے زائد بچے پولیو کا شکار ہونے سے محفوظ رہے۔

بعض پولیو ورکرز کا یہ بھی کہنا ہے کہ ویکسین پر بڑھتی بے اعتمادی اور پولیو کیمپین کی بڑھتی بد انتظامی پولیو کی روک تھام کے آڑے آرہی ہے۔

افغانستان کے جنوب مشرقی حصے میں ایک خاتون نے پولیو ورکرز کو بتایا کہ وہ چاہتی ہیں کہ اپنے بچوں کو پولیو ویکسین دیں، لیکن ان کے خاوند اور خاندان کے دیگر مرد اس ویکسین کے خلاف ہیں کیونکہ وہ ان غلط افواہوں پر یقین کرتے ہیں کہ ویکسین سے بانچھ پن ہوتا ہے: ''اگر میں ان کے خلاف جاتی ہوں، تو مجھے بھی مار پیٹ کر گھر سے نکال دیں گے۔‘‘

ادارت: افسر اعوان

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پولیو کیمپین پولیو ورکرز کے بارے میں کو پولیو کے ویکسین سے پولیو کی کے مطابق نے بتایا کہ پولیو بتایا کہ بچوں کو نہیں کی ہیں کہ

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف