اسلام ٹائمز: احتجاجی مظاہرے میں آئی ایس او کے مرکزی صدر فخر عباس نقوی، ایس یو سی کے مرکزی رہنما علامہ ناظر تقوی، ایم ڈبلیو ایم کراچی کے صدر علامہ صادق جعفری، علمدار رضوی و لاپتا شیعہ عزادار اظہر عباس کی اہلیہ نے خطاب کیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: سید ظفر جعفری

شہر قائد میں اربعین حسینیؑ کے مرکزی جلوس عزاء میں جبری گمشدہ شیعہ عزاداران کے اہلخانہ نے اپنے پیاروں کی عدم بازیابی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مرکزی جلوس کے دوران ایم اے جناح روڈ پر باجماعت نماز ظہرین کے بعد جبری گمشدہ شیعہ افراد کے اہلخانہ کی جانب سے کئے گئے احتجاج میں مرد و خواتین، لاپتہ شیعہ افراد کے معصوم بچے بھی موجود تھے۔ احتجاجی مظاہرے میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر فخر عباس نقوی، شیعہ علماء کونسل کے مرکزی ایڈیشنل سیکریٹری علامہ سید ناظر عباس تقوی، مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کے صدر علامہ صادق جعفری، علمدار رضوی و لاپتا شیعہ عزادار اظہر عباس کی اہلیہ نے خطاب کیا۔ اس موقع پر علامہ سید حیدر عباس عابدی، مولانا ڈاکٹر عقیل موسیٰ، علامہ صادق رضا تقوی، علامہ سید علی انور جعفری، علامہ مبشر حسن سمیت ملت جعفریہ سے تعلق رکھنے والے دیگر علماء کرام و رہنما بھی شریک تھے۔

مرکزی صدر آئی ایس او فخر نقوی نے کہا کہ سرزمین پاکستان میں مکتب تشیع نے ضیاء الحق جیسے ظالم ڈکٹیٹر کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا تھا، لہٰذا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جلد از جلد تمام لاپتا شیعہ افراد کو رہا کیا جائے، اگر انہیں رہا نہیں کیا گیا تو ان شاء اللہ ہم جلد پورے پاکستان میں ایک احتجاجی مہم شروع کرینگے۔ لاپتا شیعہ عزادار اظہر عباس کی اہلیہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مظلوم شیعہ جوانوں پر سلام ہو، جنہوں نے ہر دور میں مکتب تشیع کے تحفظ و سربلندی کیلئے اپنے والدین، بیوی بچوں، گھر بار سب کچھ قربان کر دیا، آج بھی کئی شیعہ جوان پانچ پانچ، دس بارہ سالوں سے جبری گمشدگی کا شکار ہیں، ان کے اہلخانہ کو نہیں معلوم کہ لاپتا شیعہ جوانوں کو کہاں کس حال میں رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی لاپتا شیعہ عزاداروں کے والدین اپنے پیاروں کی راہ تکتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں اور کچھ بستر مرگ پر اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں، جبکہ انکا سالوں پر محیط انتظار بجائے ختم ہونے کے بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔

لاپتا شیعہ عزادار کی اہلیہ نے کہا کہ ہم پاکستان کے محب  وطن شہری ریاستی اداروں سے سوال کرتے ہیں، شیعہ لاپتا عزاداروں کو بغیر کسی جرم و ثبوت کے سالوں سے کیوں جبری گمشدگی کا شکار کیا ہوا ہے، جو پاکستانی آئین و قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے، آپ کیسے قانون کے محافظ ہیں کہ خود ہی قانون کی پاسداری نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کے نام پر ملکی عدالتیں ہمیں ہر بار ایک نئی تاریخ دے دیتی ہیں، انصاف کے نام پر بنائی گئی جے آئی ٹیز میں ہم متاثرین کو ہی بلا کر پوچھا جاتا ہے کہ لاپتا شیعہ عزادار کہاں ہیں، اگر ہم محب وطن پاکستانی شہریوں کو انصاف نہیں دے سکتے تو عدالتوں کو تالے لگا دیں، پھر ہم اپنا انصاف خدا سے مانگیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمارا وطن ہے، اسے ہم نے اپنی جان و اولاد و مال، عزت و آبرو دے کر قائم کیا تھا اور ہم ہی یہاں انصاف سے محروم ہیں۔

لاپتا شیعہ عزادار کی اہلیہ نے کہا کہ ریاستی ادارے ہمارے سوالوں کے جواب دیں، ان لاپتا شیعہ عزاداروں کا کیا جرم ہے، کیا مقدسات اہلبیتؑ محمدؐ کی حفاظت کرنا ان کا جرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انکا کوئی جرم ہے تو کئی کئی سالوں سے جبری گمشدہ رکھنے کے بجائے عدالتوں میں پیش کیا جائے اور اگر اتنے سالوں سے بھی ان پر کوئی جرم ثابت نہیں ہوا ہے تو انہیں باعزت بری کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ ادارے سمجھتے ہیں کہ سالوں ان شیعہ جوانوں کو لاپتا کرنے کے بعد یہ ظاہر کرینگے کہ جیسے یہ عزادار کبھی تھے ہی نہیں، تو یہ ان اداروں کی بھول ہے، ہم اپنی زنگی کی آخری سانس تک، ان مظلوموں کیلئے آواز اٹھاتے رہینگے، سوال کرتے رہیں گے کہ لاپتا شیعہ عزادار کہاں ہیں، اور ہمارا نعرہ یہی ہوگا کہ شرم کرو حیا کرو اسیروں کو رہا کرو۔ لاپتا شیعہ افراد کے اہلخانہ سے اظہار یکجہتی کرنے کیلئے احتجاجی کیمپ میں علمائے کرام سمیت بڑی تعداد میں عزاداران امام حسینؑ نے شرکت کی۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.

youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: لاپتا شیعہ عزادار انہوں نے کہا کہ شیعہ افراد کے کی اہلیہ نے کے اہلخانہ سالوں سے کے مرکزی

پڑھیں:

وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک

استحکام پاکستان پارٹی کے مرکزی قائدین بھی متحرک ہیں۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف بھی گلگت بلتستان پہنچ گئے ہیں۔ یاد رہے کہ گلگت بلتستان کے عام انتخابات کیلئے پولنگ 7 جون کو ہو گی۔ اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان الیکشن کی تاریخ کے آخری ہفتے میں انتخابی مہم زروں پر پہنچ گئی ہے، وفاقی جماعتوں کے تقریباً تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان پہنچ گئے ہیں اور اپنے اپنے امیدواروں کی انتخابی مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور آصفہ بھٹو زرداری نے سکردو میں جلسہ سے خطاب کیا۔ پیپلزپارٹی کے دیگر قائدین قمر زمان کائرہ، ندیم افضل چن، چوہدری منظور پہلے ہی گلگت بلتستان میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ ادھر وفاقی وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام، خواجہ سعد رفیق بھی جی بی میں موجود ہیں۔ استحکام پاکستان پارٹی کے مرکزی قائدین بھی متحرک ہیں۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف بھی گلگت بلتستان پہنچ گئے ہیں۔ یاد رہے کہ گلگت بلتستان کے عام انتخابات کیلئے پولنگ 7 جون کو ہو گی۔

متعلقہ مضامین

  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد