گلگت بلتستان کے ضلع غذز کے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کا ریسکیو آپریشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
گلگت بلتستان کے ضلع غذر حالیہ شدید سیلاب کے نتیجے میں گاؤں خلتی کے 11 خاندان شدید متاثر ہوئے ہیں، تاہم گاؤں گامیس میں 11 عارضی ٹینٹوں پر مشتمل ولیج قائم کیا گیا ہے جہاں عارضی ٹینٹ ولیج میں متاثرہ خاندانوں کے لیے رہائش، کھانے پینے اور علاج معالجے کا بندوبست کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان کے ضلع غذز میں بارش اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کا ریسکیو آپریشن جاری ہے جہاں کئی خاندان کے گھر اور فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔ گلگت بلتستان کے ضلع غذر حالیہ شدید سیلاب کے نتیجے میں گاؤں خلتی کے 11 خاندان شدید متاثر ہوئے ہیں، تاہم گاؤں گامیس میں 11 عارضی ٹینٹوں پر مشتمل ولیج قائم کیا گیا ہے جہاں عارضی ٹینٹ ولیج میں متاثرہ خاندانوں کے لیے رہائش، کھانے پینے اور علاج معالجے کا بندوبست کیا گیا۔
پاک فوج، سول انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کی جانب سے متاثرہ خاندانوں میں ریلیف پیکجز تقسیم کیے گئے جبکہ ریسکیو آپریشن کے دوران پاک فوج، ریسکیو 1122، پولیس اور مقامی افراد کی مشترکہ کاوشیں جاری ہیں۔ دوسری جانب سیلاب میں لاپتہ ہونے والے افراد کی تلاش اور متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جب کہ عوام کی جانب سے پاک فوج ، سول انتظامیہ اور ریسکیو 1122 کے اس انسان دوست کردار کو سراہا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان کے ضلع متاثرہ خاندانوں پاک فوج کیا گیا
پڑھیں:
گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف —فائل فوٹومسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی، جس جی بی کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا۔
گلگت میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایئر پورٹ کے باہر اس کی سڑکوں کا حلیہ دیکھا تو افسوس ہوا، جو منصوبے ہم نے شروع کیے تھے وہ مکمل کیوں نہیں ہوئے؟ آخر وہ پیسہ کہاں لگایا گیا؟
نواز شریف کا کہنا ہے کہ جو سڑک میں نے شروع کی اسے خنجراب تک پہنچنا چاہیے تھا، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللّٰہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کر سکتے۔
اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، شہباز شریف اور مریم نواز دونوں کو کہوں گا کہ یہاں آئیں، ایئر پورٹ کو بڑا کر کے یہاں بوئنگ طیارے آنے چاہیے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے کہوں گا کہ ایئر پورٹ کو بڑا کریں گے، میں ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔
اس سے قبل نواز شریف بذریعہ طیارہ گلگت پہنچے تھے، وفاقی وزیر امیر مقام، سابق وزیرِ اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔
وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللّٰہ، سینیٹر پرویز رشید، پنجاب کی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر انوشہ رحمٰن، کاظم پیرزادہ نواز شریف کے ہمراہ گلگت پہنچے ہیں۔
ترجمان مسلم لیگ ن شمس میر کے مطابق نواز شریف گلگت بلتستان میں ن لیگ کے امیدواروں، صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی عہدیداران سے ملاقاتیں اور خطاب کریں گے۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر الیکشن 7 جون کو ہو گا۔