گلگت بلتستان؛ پاک فوج کی امدادی کارروائیاں، ادویات اور اشیائے ضروریہ متاثرین تک پہنچ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
سٹی 42 : گلگت بلتستان اہم اپڈیٹ سامنے آئی ہے کہ پاک فوج کی امدادی کارروائیاں جاری ہیں، ادویات اور اشیائے ضروریہ متاثرین تک پہنچا دی گئیں۔
سیلاب سے متاثرہ غذر میں پاک فوج اور گلگت بلتستان اسکاؤٹس کی بروقت، فعال امدادی کاروائیاں جاری ہیں۔ ابھی یہ خبر سامنے آئی ہے کہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے امدادی سامان کی ترسیل ادویات اور اشیائے ضروریہ متاثرین تک پہنچائی گئیں۔ اس موقع پر پاک فوج اور گلگت بلتستان اسکاؤٹس کی جانب سے قائم میڈیکل کیمپس میں زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی ۔
جعلی ادویات کا خاتمہ، 2D بارکوڈ نظام پر عمل درآمد کیلئے اہم اجلاس طلب
شدید زخمیوں کو بروقت فیلڈ ہسپتال منتقل کیا گیا تاکہ بہتر علاج ممکن بنایا جا سکے، سیلاب متاثرین نے پاک فوج کے اس اقدام کو بھرپور سراہا۔
افواج پاکستان مشکل کی اس گھڑی میں اپنی قوم کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
باجوڑ؛ دہشت گردوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کے پیشِ نظر کرفیو نافذ
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان پاک فوج
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔