ذیابیطس کے علاج کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ برطانیہ کی میڈیسن اینڈ ہیلتھ کیئر ریگولیٹری ایجنسی (MHRA) نے ٹائپ 1 ذیابیطس کو سست کرنے والی پہلی دوا ’ٹیپلیزوماب‘ کے استعمال کی منظوری دے دی ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ ایسی دوا کو باضابطہ طور پر لائسنس جاری کیا گیا ہے جو اس مرض کے اثرات کو کم کر کے مریضوں کو انسولین کے روزمرہ انجکشن سے نجات دلانے میں مدد دے سکتی ہے۔ ماہرین نے اس فیصلے کو ذیابیطس کے علاج میں ایک سنگ میل قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ مریضوں کے لیے ’گیم چینجر‘ ثابت ہو سکتا ہے۔

برطانیہ میں تقریباً چار لاکھ افراد ٹائپ 1 ذیابیطس کے شکار ہیں۔ یہ ایک دائمی بیماری ہے جس میں جسم کا مدافعتی نظام لبلبے کے انسولین بنانے والے خلیوں کو نقصان پہنچاتا ہے، نتیجتاً مریض کو توانائی کے حصول کے لیے قدرتی طور پر انسولین میسر نہیں آتی۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے اب تک مریضوں کو زندگی بھر انسولین انجکشن پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔

ذیابیطس آرکنائزیشن یوکے کی رپورٹ کے مطابق ایم ایچ آر اے کی جانب سے جاری کردہ لائسنس کے بعد اب برطانیہ میں مریض اس نئی دوا ’ٹیپلیزوماب‘ (Teplizumab) جسے Tzield بھی کہا جاتا ہے، سے مستفید ہو سکیں گے، جو کہ انسولین کے استعمال کی ضرورت کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہے۔ یہ ایک سنگ میل کا لمحہ ہے اور ٹائپ 1 ذیابیطس کے علاج کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔

ٹائپ 2 ذیابیطس کے برعکس، جہاں یا تو انسولین کم بنتی ہے یا جسم اسے مؤثر طریقے سے استعمال نہیں کر پاتا، ٹائپ 1 ذیابیطس میں انسولین کی پیداوار تقریباً ختم ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس نئی دوا کو ایک ’ٹرننگ پوائنٹ‘ سمجھ رہے ہیں۔

سنوفی برطانیہ اور آئرلینڈ کے جنرل منیجر احمد موسیٰ کا کہنا ہے کہ ’ایک صدی قبل انسولین کی دریافت نے ذیابیطس کے علاج میں انقلاب برپا کیا تھا، اور آج کی یہ منظوری اس جدوجہد میں اگلا اہم قدم ہے۔‘

ماہرین صحت کا ماننا ہے کہ یہ نئی دوا نہ صرف مریضوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنائے گی بلکہ آنے والے وقت میں ٹائپ 1 ذیابیطس کے علاج کے طریقہ کار کو بھی تبدیل کر دے گی۔

Post Views: 6.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ذیابیطس کے علاج کے ٹائپ 1 ذیابیطس کے لیے

پڑھیں:

فیفا ورلڈکپ 2026 کا آغاز 12 جون سے

دنیا کے سب سے بڑے کھیلوں کے مقابلے فیفا فٹبال ورلڈکپ(FIFA World Cup) 2026 کا آغاز 12 جون سے امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں ہوگا۔

یہ تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ ورلڈکپ میں 48 ٹیمیں حصہ لیں گی، جس کے باعث ٹورنامنٹ پہلے سے زیادہ طویل، دلچسپ اور غیر متوقع نتائج کا حامل ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق اس بار 48 ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے، ہر گروپ میں 4 ٹیمیں شامل ہوں گی۔ مجموعی طور پر اس ٹورنامنٹ میں 104 میچز کھیلے جائیں گے، جو اسے فیفا ورلڈکپ کی تاریخ کا سب سے بڑا ایڈیشن بنا دیتے ہیں۔

نئے فارمیٹ کے تحت ہر گروپ سے پہلی اور دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیمیں براہ راست ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچیں گی۔ اس بار پہلی مرتبہ راؤنڈ آف 32 کا مرحلہ بھی شامل کیا گیا ہے، جس کے بعد مقابلہ مزید سخت ہوتا جائے گا۔

ٹورنامنٹ میں دنیا کی بڑی فٹبال ٹیمیں ایک بار پھر ٹائٹل کے حصول کے لیے میدان میں اتریں گی، تاہم ماہرین کے مطابق 48 ٹیموں کی شمولیت کے باعث کسی بھی واضح فیورٹ کا تعین کرنا پہلے سے زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔

اسی تناظر میں اوپٹا سپر کمپیوٹر نے جدید ڈیٹا اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس ماڈل کے ذریعے ورلڈکپ کی پیشگوئی کی ہے۔ یہ ماڈل ہزاروں بار ٹورنامنٹ کے ممکنہ نتائج کو ڈیجیٹل طور پر سمولیٹ کر کے نتائج اخذ کرتا ہے اور ہر ٹیم کے جیتنے، فائنل تک پہنچنے اور ناک آؤٹ مرحلے میں کارکردگی کے امکانات کا تجزیہ پیش کرتا ہے۔

مزیدپڑھیں:عمران خان نے قومی حکومت کی حامی بھرلی ،فواد چوہدری کادعویٰ

سپر کمپیوٹر کے مطابق اس بار فیورٹ ٹیموں میں اسپین سب سے آگے ہے، جس کے ورلڈکپ جیتنے کے امکانات 16.1 فیصد بتائے گئے ہیں۔ اس کے بعد فرانس کو 13 فیصد، انگلینڈ کو 11.2 فیصد اور ارجنٹینا کو 10.4 فیصد کے ساتھ ممکنہ ٹاپ امیدواروں میں شامل کیا گیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق یہ چاروں ٹیمیں وہ ہیں جن کے امکانات دیگر ٹیموں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔ تاہم ماڈل یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ اسپین کے لیے ٹائٹل جیتنے کا راستہ آسان نہیں ہوگا، کیونکہ اس کے کوارٹر فائنل تک نہ پہنچنے کا امکان بھی 52 فیصد سے زیادہ بتایا گیا ہے۔

تجزیاتی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسپین کے کوارٹر فائنل تک پہنچنے کی صورت میں سیمی فائنل تک رسائی کا امکان تقریباً 39 فیصد اور فائنل میں پہنچنے کا امکان 25.6 فیصد ہے، جو اسے ایک مضبوط مگر غیر یقینی پوزیشن میں رکھتا ہے۔

 48 ٹیموں کی شمولیت نے ورلڈکپ کو مزید غیر متوقع بنا دیا ہے، جہاں کسی بھی بڑے اپ سیٹ کا امکان پہلے سے زیادہ بڑھ گیا ہے، اور یہی اس ٹورنامنٹ کو خاص اور دلچسپ بناتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • شاہ چارلس کے کینسر کا علاج جاری، شہزادہ ولیم نے ’شیڈو کنگ‘ کی ذمہ داریاں سنبھال لیں
  • بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی ہڑتال کی کالیں غیر قانونی قرار
  • پنجاب میں پہلی بار 8 لاکھ 32ہزار سےزائدکاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
  • فیفا ورلڈکپ 2026 کا آغاز 12 جون سے
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار