ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار برطانیہ کے سرکاری دورے پر لندن پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار برطانیہ کے سرکاری دورے پر لندن پہنچ گئے۔
وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اپنے تین روزہ سرکاری دورے (17 تا 19 اگست 2025) پر برطانیہ پہنچ گئے۔ اس موقع پر پاکستان کے ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل نے ایئرپورٹ پر ان کا استقبال کیا۔
دورہ برطانیہ کے دوران ڈپٹی وزیراعظم کی ملاقات برطانوی ڈپٹی وزیراعظم اینجلا رینر، برطانیہ کے پارلیمانی انڈر سیکریٹری برائے پاکستان ہیمش فالکنر، لارڈ واجد خان اور کامن ویلتھ کی سیکریٹری جنرل شِرلی ایورکور بوچوے سے ہوگی۔
اس دورے کا بنیادی مقصد پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانا اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، انٹرپرینیورشپ (کاروباری جدت) کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔
اس دورے کے دوران برطانوی اراکینِ پارلیمنٹ، کشمیری رہنما اور پاکستانی کمیونٹی کے نمائندے بھی ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ سے ملاقات کریں گے۔
پاکستان ہائی کمیشن لندن میں سینیٹر اسحاق ڈار پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے پائلٹ پراجیکٹ اور امی پاس (IMPASS) کے تحت ون ونڈو آپریشن کا افتتاح بھی کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ڈپٹی وزیراعظم برطانیہ کے اسحاق ڈار
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔