نو مئی مقدمات؛ چیف جسٹس پاکستان کا فریقین کو دستاویزات جلد جمع کروانے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 19th, August 2025 GMT
نو مئی مقدمات؛ چیف جسٹس پاکستان کا فریقین کو دستاویزات جلد جمع کروانے کی ہدایت WhatsAppFacebookTwitter 0 19 August, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے 9 مئی مقدمات میں بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کل تک ملتوی کر دی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جس فریق نے کوئی دستاویزات جمع کروانے ہیں آج کروا دے، دستاویزات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر روسٹرم پر آئے تو چیف جسٹس نے کہا کہ فریقین کی جانب سے دستاویزات جمع کروائی گئی ہیں، ہمیں ان دستاویزات کا جائزہ لینا ہے۔
وکیل بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ ہمارے پاس انسداد دہشت گردی عدالتوں کے فیصلے بھی ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ جو بھی دستاویزات دینا چاہیں جلدی جمع کروا دیں، پراسیکیوشن سائیڈ بھی ملزم کی جمع کروائی گئی دستاویزات کا جائزہ لے لیں۔
عدالت نے کیس کی سماعت کل بدھ ساڑھے دس بجے تک ملتوی کر دی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین اور بھارت کو تعلقات کی بہتری کو مستحکم کرنا ہوگا، چینی وزیر خارجہ اگلی خبرگرفتار یوٹیوبر ڈکی بھائی کے خلاف اہم انکشافات سامنے آگئے پی ٹی آئی نومبر احتجاج؛ مزید چار ملزمان کو سزا سنا دی گئی پاکستان میں سیلاب سے تباہی ، چین ہر مشکل میں مدد کرنے کےلئے تیار ہے ، چینی وزیر خارجہ اسلام آباد، راولپنڈی اور پشاور سمیت مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے ہم چاہتے ہیں جنگ سب کیلئے بہترانداز میں ختم ہو، ڈونلڈ ٹرمپ غزہ میں حماس کی حکومت نہیں رہے گی؛ فلسطین اتھارٹی کے وزیراعظم نے اشارہ دیدیا غزہ سے یرغمالیوں کی واپسی کیلئے حماس کو مکمل ختم کرنا ہوگا: ٹرمپ کی تنبیہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چیف جسٹس
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔