اسرائیل نے یورپی ممالک کو فلسطینی ریاست کی حمایت پر وارننگ دے دی
اشاعت کی تاریخ: 25th, August 2025 GMT
تل ابیب (انٹرنیشنل ڈیسک)اسرائیل نے فرانس اور دیگر یورپی ممالک کو فلسطینی ریاست کے حق میں کیے جانے والے فیصلوں پر سخت وارننگ دی ہے اور کہا ہے کہ یورپ کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ ہے یا حماس کے ساتھ۔
اسرائیلی وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ حماس نے یورپی رہنماؤں کے فلسطینی ریاست کے حق میں کیے گئے اقدامات کی تعریف کی ہے، جو مشرق وسطیٰ میں جہادی اتحاد کے مفاد میں ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ حماس نے اسرائیل پر مزید پابندیاں لگانے کے مطالبے پر نیدرلینڈز کے وزیر خارجہ کیسپر ویلڈکیمپ کے استعفے کو بھی سراہا۔ کیسپر ویلڈکیمپ نے غزہ پر اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے خلاف مزید پابندیاں لگانے کی حمایت نہ ملنے پر استعفیٰ دیا تھا۔
فرانس نے گزشتہ ماہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا، اور فرانسیسی صدر نے کہا ہے کہ وہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس فیصلے کا باضابطہ اعلان کریں گے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فلسطینی ریاست
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔