اسرائیل نے فرانس اور دیگر یورپی ممالک کو فلسطینی ریاست کی حمایت پر سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپ کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ ہے یا حماس کے ساتھ ہیں۔

اسرائیلی وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ حماس نے ان اقدامات کی تعریف کی ہے جو یورپی رہنماؤں نے فلسطینی ریاست کے حق میں کیے ہیں۔ وزیر خارجہ کے مطابق یہ تمام فیصلے دراصل مشرقِ وسطیٰ میں جہادی اتحاد کے مفاد میں جاتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ حماس نے اسرائیل پر مزید پابندیوں کے مطالبے پر ڈچ وزیر خارجہ کیسپر ویلڈکیمپ کے استعفے کو بھی سراہا، جبکہ اس سے قبل فرانسیسی صدر اور دیگر یورپی رہنماؤں کے فلسطینی ریاست تسلیم کرنے کے فیصلے پر بھی خوشی کا اظہار کیا تھا۔

یاد رہے کہ دو روز قبل نیدرلینڈز کے وزیر خارجہ کیسپر ویلڈکیمپ نے غزہ پر اسرائیلی فوجی حملوں کے خلاف مزید پابندیاں لگوانے کے مطالبے پر کابینہ سے حمایت نہ ملنے کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔ کیسپر نے کہا کہ وہ غزہ میں جاری صورتحال پر شرمندہ ہیں اور کابینہ میں اضافی اقدامات کی شدید مزاحمت کا سامنا کر رہے تھے۔

فرانس نے بھی گزشتہ ماہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ فرانسیسی صدر نے اعلان کیا ہے کہ وہ ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے اپنے خطاب میں باضابطہ طور پر اس فیصلے کا اعلان کریں گے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فلسطینی ریاست

پڑھیں:

نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹو 

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ: درست ویزا، ٹکٹ اور سفری دستاویزات والے مسافر کو آف لوڈ کرنا غیر قانونی قرار

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد