’آپ کی تنخواہ کتنی ہونی چاہیے؟‘، انٹرویو میں پوچھے جانے والے سوال کا بہترین جواب بل گیٹس نے بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, August 2025 GMT
دنیا بھر میں نوکری کے انٹرویوز کے دوران سب سے مشکل اور ناپسندیدہ سوال سمجھا جاتا ہے کہ ’آپ کی تنخواہ کتنی ہونی چاہیے؟‘۔ مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس نے اس سوال کا منفرد اور بہترین جواب بتا دیا ہے جسے ماہرین ’مذاکرات کی ماسٹر کلاس‘ قرار دے رہے ہیں۔
امریکی بزنس ویب سائٹ بزنس انسائیڈر کے مطابق ایک انٹرویو میں جب گیٹس سے پوچھا گیا کہ وہ اس سوال کا جواب کیسے دیں گے تو انہوں نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ کمپنی مجھے اچھا پیکیج دے گی تاکہ میں رسک لے سکوں۔ مجھے کمپنی کے مستقبل پر اعتماد ہے اس لیے میں فوری نقد رقم سے زیادہ اسٹاک آپشنز کو ترجیح دوں گا۔ مجھے معلوم ہے دیگر کمپنیاں زیادہ دیتی ہیں لیکن مجھے منصفانہ رویہ اور آپشنز زیادہ اہم لگتے ہیں۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف سے بل گیٹس اور صدر یورپی کمیشن کی ملاقاتیں
بل گیٹس کا یہ سادہ سا جواب ان کے وژن اور مستقبل بینی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہی حکمتِ عملی ان کی دولت کا اہم سبب بھی بنی کیونکہ ان کی بیشتر دولت مائیکروسافٹ کے شیئرز سے بنی۔
ماہرین کے مطابق بل گیٹس کا جواب نہ صرف خود اعتمادی اور حوصلے کی علامت ہے بلکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ کمپنی کے ساتھ طویل المدتی وابستگی چاہتے ہیں۔ یہ جواب شفافیت، اعتماد اور کمپنی کے مستقبل پر یقین کو اجاگر کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: کورونا ویکسین سے متعلق منفی خبروں کے بعد بل گیٹس اور بیٹی کے تعلق میں دراڑیں
اسی انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کس شعبے میں کام نہیں کر سکتے تو گیٹس نے اعتراف کیا کہ وہ کبھی بھی سیلز یا مارکیٹنگ کے شعبے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ کہا میں فطری طور پر سیلز یا مارکیٹنگ کا ماہر نہیں ہوں، میری دلچسپی ہمیشہ پروڈکٹ بنانے اور اس کی تعریف پر مرکوز رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آپ کی تنخواہ کتنی ہونی چاہیے؟ بل گیٹس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔