ہر دل عزیز سوزوکی آلٹو کی فروخت میں اچانک بڑی کمی کیوں؟
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
جون 2025 میں سوزوکی آلٹو کے 9,497 یونٹس فروخت ہوئے تھے، لیکن پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں یہ تعداد صرف 2,327 رہ گئی، یعنی فروخت میں تقریباً 75 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
پاکستان میں مقبول عام آلٹو کی سیل میں نمایاں کمی کی کیا وجہ ہے؟ اس کی موجودہ قیمت اس وقت کیا گاڑی کے معیار پر پورا اترتی ہے؟
اس ضمن میں آل پاکستان موٹرز ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم اکبر شہزاد کا کا مؤقف قدرے مختلف ہے، ان کے مطابق گاڑی بنانے والی کمپنیاں جان بوجھ کر صرف آلٹو کے منفی اعداد و شمار کو نمایاں کر رہی ہیں تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ مارکیٹ میں شدید مندی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سوزوکی آلٹو کی فروخت میں ایک ماہ کے دوران 75 فیصد کمی، سبب کیا نکلا؟
اکبر شہزاد کے مطابق یہ سب اس لیے ہے کہ حکومت کو استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل امپورٹ پر پابندی برقرار رکھنے پر قائل کیا جا سکے۔
’اگر اپریل تک کے مجموعی اعداد دیکھے جائیں تو گزشتہ 9 ماہ میں مقامی کمپنیوں کی گاڑیوں کی فروخت میں 46 فیصد اضافہ ہوا ہے، اس لیے صرف ایک ماڈل کی بنیاد پر منفی تصویر پیش کرنا درست نہیں۔‘
قیمتوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتیں معیار اور پڑوسی ملکوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں، مثال کے طور پر بھارت میں آلٹو کی قیمت تقریباً 13 لاکھ روپے ہے، جبکہ پاکستان میں یہی گاڑی 33 سے 34 لاکھ روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔
مزید پڑھیں: سوزوکی کلٹس کے مختلف ویریئنٹس کی قیمتوں کا اعلان کردیا گیا
’صرف آلٹو ہی نہیں بلکہ پاکستان میں زیادہ تر گاڑیاں اپنی کوالٹی اور فیچرز کے لحاظ سے اتنی مہنگی نہیں ہونی چاہییں۔‘
کار ڈیلر فاروق پٹیل سمجھتے ہیں کہ آلٹو کی سیل میں کمی کی بڑی وجہ حالیہ ٹیکس پالیسی ہے، حکومت نے جولائی میں جنرل سیلز ٹیکس کو 12.
’قیمت میں مسلسل اضافے کے بعد یہ گاڑی متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے مارکیٹ بھی کافی زیادہ ڈاؤن ہے۔‘
مزید پڑھیں: سوزوکی پاکستان کی ’آل ان ون‘ کار انشورنس میں خاص کیا ہے؟
معیار اور خصوصیات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فاروق پٹیل کا کہنا تھا کہ آلٹو اپنے ڈیزائن اور فیچرز کے اعتبار سے نہ صرف مہنگی ہے بلکہ معیاری یا پائیدار نہیں۔ پاکستان میں تیار کی جانے والی گاڑیاں اپنی قیمت کے مقابلے میں کم فیچرز اور محدود کوالٹی پیش کرتی ہیں۔
’بھارت میں یہی آلٹو 15 سے 26 لاکھ روپے میں ملتی ہے، جبکہ پاکستان میں اس کی قیمت 33 سے 34 لاکھ روپے ہے، یہ فرق صارفین کے اعتماد کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔‘
آٹو ایکسپرٹ شوکت قریشی بھی اس رائے سے متفق نظر آتے ہیں، ان کے مطابق پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتیں خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں غیر متناسب طور پر زیادہ ہیں، جس سے مارکیٹ میں اجارہ داری اور صارفین کی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: سوزوکی سوئفٹ آسان اقساط پر دستیاب، قیمت کیا ہے؟
’حکومت کو فیصلے کرتے وقت صرف مقامی کمپنیوں کے اعداد و شمار پر انحصار کرنے کے بجائے ہمسایہ ممالک کی قیمتوں اور معیار کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے تاکہ ایک طرف عوام کو بہتر سہولت ملے اور دوسری جانب مارکیٹ میں غیر ضروری اجارہ داری کا خاتمہ ہوسکے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آل پاکستان موٹرز ڈیلرز ایسوسی ایشن اجارہ داری اکبر شہزاد آلٹو بھارت پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن سوزوکی صارفین فاروق پٹیل فیچر کمرشل امپورٹ کوالٹی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اکبر شہزاد ا لٹو بھارت سوزوکی صارفین فاروق پٹیل فیچر کمرشل امپورٹ کوالٹی کہ پاکستان میں ایسوسی ایشن گاڑیوں کی لاکھ روپے کے مطابق کی قیمت آلٹو کی
پڑھیں:
مودی کی شبیہ کو بچانے کیلئے سونے کے ذخائر فروخت کئے جارہے ہیں، ملکارجن کھڑگے
کانگریس صدر نے کہا کہ گرتا ہوا روپیہ، غیر ملکی سرمایہ کاروں کا ہندوستان سے سرمایہ نکالنا، صنعتوں اور کمپنیوں کا بند ہونا ایسے حقائق ہیں جو معیشت کی کمزور ہوتی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ انڈین نیشنل کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی جانب سے مبینہ طور پر گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران تقریباً 12 بلین امریکی ڈالر (تقریباً 1.14 لاکھ کروڑ روپے) مالیت کا سونا فروخت کئے جانے کی خبروں پر مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت روپے کی گرتی ہوئی قدر کو روکنے اور وزیر اعظم نریندر مودی کی شبیہ کو بچانے کے لئے ملک کے سونے کے ذخائر فروخت کر رہی ہے۔ کانگریس صدر نے اپنے آفیشیل ایکس ہینڈل پر ایک پوسٹ جاری کر کہا کہ مودی حکومت سے روپیہ سنبھالا نہیں جا رہا ہے اور صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ کسی بھی وقت ایک امریکی ڈالر کی قیمت 100 روپے تک پہنچ سکتی ہے۔
اسی خدشے کے باعث حکومت اپنی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ مودی کو اپنی شبیہ کی فکر ستا رہی ہے، اسی لئے آر بی آئی سے کہہ کر ملک کا سونا فروخت کروایا جا رہا ہے تاکہ روپیہ 100 روپے فی ڈالر کی حد عبور نہ کر جائے۔ انہوں نے کہا کہ صرف 2 ہفتوں کے اندر آر بی آئی نے تقریباً 12 بلین ڈالر مالیت کا سونا فروخت کر دیا ہے، جو ہندوستانی کرنسی میں تقریباً 1.14 لاکھ کروڑ روپے کے برابر بنتا ہے۔ کھڑگے کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات وزیر اعظم کی "فرضی شبیہ" کو بچانے کے لئے کئے جا رہے ہیں، لیکن اب بہت دیر ہو چکی ہے کیونکہ ملک کی عوام حقیقت سے واقف ہو چکی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں نے ملک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اپنی تنقید کو مزید تیز کرتے ہوئے کانگریس صدر نے کہا کہ گرتا ہوا روپیہ، غیر ملکی سرمایہ کاروں کا ہندوستان سے سرمایہ نکالنا، صنعتوں اور کمپنیوں کا بند ہونا اور روزگار کے مواقع میں کمی ایسے حقائق ہیں جو معیشت کی کمزور ہوتی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ مسائل محض شروعات ہیں اور آنے والے دنوں میں حالات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ کھڑگے نے اپنے بیان کے اختتام پر مودی حکومت پر سخت سیاسی حملہ کرتے ہوئے یہ تک کہہ دیا کہ مودی ہے تو ملک برباد ہے۔