غزہ جنگ چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گی، ٹرمپ کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ غزہ کے اسپتال پر اسرائیلی حملے سے خوش نہیں اور یہ جنگ آئندہ چند ہفتوں میں فیصلہ کن انجام کو پہنچ جائے گی۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ یہ سب کچھ دیکھنا نہیں چاہتے اور اس بھیانک خواب کو ختم کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق اگلے 2 سے 3 ہفتوں کے اندر غزہ جنگ کے حوالے سے ایک بڑا اور فیصلہ کن نتیجہ سامنے آئے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ماضی میں ہم نے سات جنگیں رکوائیں، اور محصولات و تجارتی معاہدوں کے ذریعے بھی جنگیں روکی جا سکتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ یوکرین جنگ بھی ختم کروانا چاہتے ہیں اور امریکا اب یوکرین پر مزید پیسہ خرچ نہیں کرے گا۔
اسرائیلی فوج نے پیر کے روز غزہ کے الناصر اسپتال پر بمباری کی جس میں ڈیوٹی پر موجود پانچ صحافیوں سمیت 20 افراد شہید ہوگئے۔
اسپتال حملے کے بعد خان یونس میں اسرائیلی فائرنگ سے فلسطینی صحافی اور ماہر تعلیم حسن دوہان بھی شہید ہوئے۔ ایک ہی دن میں غزہ میں شہید صحافیوں کی تعداد چھ تک جا پہنچی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔