اسرائیلی آرمی چیف بھی جنگ بندی کے حامی، معاہدے کی منظوری کا مشورہ دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, August 2025 GMT
تل ابیب: اسرائیلی آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل ایال زمیر نے پہلی بار غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں حماس کے ساتھ معاہدہ ممکن ہے، اور حکومت کو پیش کیے گئے مجوزہ امن معاہدے کو قبول کر لینا چاہیے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایال زمیر نے حیفا کے ایک بحری اڈے کے دورے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج کی کارروائیوں نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جو جنگ بندی کے لیے سازگار ہیں۔ انہوں نے اسٹیو وٹکوف کے پیش کردہ فریم ورک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک واضح معاہدہ موجود ہے، اور اب فیصلہ وزیراعظم نیتن یاہو کو کرنا ہے۔
آرمی چیف نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر اسرائیلی فوج غزہ شہر پر مکمل قبضے کی کوشش کرتی ہے تو اس سے زیر حراست یرغمالیوں کی جانوں کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ فلسطینی تنظیم حماس پہلے ہی اس جنگ بندی معاہدے کو منظور کر چکی ہے، تاہم اسرائیلی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اس کے برعکس، حالیہ دنوں میں اسرائیلی حکومت نے غزہ شہر پر قابض ہونے کے لیے فوجی آپریشن کی منظوری دی، جس کے بعد اسرائیلی حملوں میں شدت آ چکی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔