ایف آئی اے کراچی کا کریک ڈاؤن، حوالہ ہنڈی گینگ کا کارندہ گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
کراچی:
ایف آئی اے کراچی زون نے حوالہ ہنڈی میں ملوث منظم گینگ کے خلاف کامیاب کریک ڈاؤن کرتے ہوئے ایک کارندہ رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق کارروائی کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی نے خفیہ اطلاع پر صدر اور گلشن اقبال کے علاقوں میں چھاپے مارے۔ صدر کے علاقے ریگل کمپیوٹر مارکیٹ میں کارروائی کے دوران گرفتار ملزم عمیر حوالہ ہنڈی کے ذریعے رقم ڈیلیور کرنے آیا تھا اور رقوم کی ترسیل کے لیے موٹر سائیکل استعمال کرتا تھا۔ ملزم سے موقع پر 15 لاکھ روپے برآمد کیے گئے۔
گرفتار ملزم کی نشاندہی پر گلشن اقبال کے ایک مکان پر چھاپا مارا گیا، جہاں سے 15 لاکھ روپے نقدی، موبائل فون اور حوالہ ہنڈی سے متعلق اہم شواہد قبضے میں لیے گئے۔ ایف آئی اے کے مطابق گرفتار عمیر دراصل فیصل نامی مرکزی ملزم کا فرنٹ مین ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ مجموعی طور پر 30 لاکھ روپے برآمد کیے گئے ہیں اور ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں جبکہ تحقیقات تیزی سے جاری ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حوالہ ہنڈی ایف آئی اے
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔