5 اور 10 سال پرانی گاڑی کب سے امپورٹ کی جا سکتی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
پاکستان میں مقامی طور پر تیار ہونے والی گاڑیوں کی قیمتیں دنیا بھر میں گاڑیوں کی قیمتوں کی نسبت کہیں زیادہ ہیں، یہی وجہ ہے کہ بیشتر لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بیرون ممالک خصوصاً جاپان سے گاڑی امپورٹ کریں، جہاں گاڑیوں کی قیمت نسبتاً کم ہے تاہم پاکستان پہنچنے تک اس گاڑی پر اتنے ٹیکسز عائد ہو جاتے ہیں کہ اس کی قیمت کئی گنا بڑھ جاتی ہے دوسری جانب حکومت نے 3 سال سے پرانی گاڑی کی امپورٹ پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
رواں مالی سال کے بجٹ میں یہ تجویز دی گئی تھی کہ 5 اور 10 سال تک کی پرانی گاڑیوں پر اضافی ڈیوٹی عائد کرتے ہوئے امپورٹ کی اجازت دی جائے، اب حکومت نے آئی ایم ایف کی مشاورت سے 5 سال تک کی پرانی گاڑی کی امپورٹ پر 40 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر خزانہ کا امپورٹڈ 5 سال پرانی گاڑی پر 40 فیصد ڈیوٹی عائد کرنے کا اعلان
اس ضمن میں عائد پابندی یہ ہے کہ مذکورہ گاڑی حادثے کا شکار، کسی فنی خرابی یا دھواں چھوڑنے والی گاڑی نہ ہو، اس فیصلے کا اطلاق آئندہ مالی سال یعنی جولائی 2026 کے بعد منگوائی جانے والی گاڑیوں پر ہوگا جبکہ 10 سال پرانی گاڑی امپورٹ کرنے کی اجازت دوسرے مرحلے میں دی جائے گی۔
وزارت تجارت کی دستاویز کے مطابق اس وقت پاکستان میں امپورٹ کی جانے والی گاڑیوں پر 50 سے 156 فیصد تک ڈیوٹیز عائد ہیں، پرانی گاڑی امپورٹ کرنے کی صورت میں 90 سے 196 فیصد تک ڈیوٹی وصول کی جائے گی جس سے گاڑی کی قیمت میں اضافہ ہوجائے۔
مزید پڑھیں: گاڑیوں کی ڈیلیوری میں تاخیر کا سبب کیا ہے؟ لکی موٹر کارپوریشن نے بتادیا
اس وقت امپورٹ کی جانے والی850 سی سی تک کی گاڑیوں پر 50 فیصد، ایک ہزار سی سی تک کی گاڑیوں پر 71 فیصد، 1500 سی سی تک کی گاڑیوں پر 76 فیصد، 1800 سی سی گاڑیوں پر 91 فیصد اور 2500 یا اس سے بڑی گاڑی پر 156 فیصد ڈیوٹی عائد ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی ایم ایف امپورٹ بجٹ پرانی گاڑی جاپان حادثے کا شکار ڈیوٹی عائد فنی خرابی وزارت تجارت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف امپورٹ پرانی گاڑی جاپان حادثے کا شکار ڈیوٹی پرانی گاڑی ڈیوٹی عائد گاڑیوں پر امپورٹ کی والی گاڑی گاڑیوں کی
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔