وزیر اعظم کی کسٹم کے نظام کو فیس لیس کر کے شفافیت یقینی بنانے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کسٹم کے جانچ پڑتال اور تخمینہ کے نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ اور فیس لیس (faceless) کر کے شفافیت کو یقینی بنایا جائے، کسٹم کے نظام کی بہتری اور جدت کا مقصد برآمدات اور درآمدات سے منسلک کاروباری حضرات کو سہولت بہم پہنچانے کے ساتھ ملکی ریونیو میں اضافہ کرنا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کسٹم کے جانچ پڑتال اور تخمینہ کے نظام کو فیس لیس (faceless) کرنے پر جائزہ اجلاس ہوا۔
اجلاس میں وزیراعظم کو کسٹم کے جانچ پڑتال اور تخمینہ میں کیے جانے والے اب تک کے اقدامات سے آگاہ کیا گیا، مصنوعی ذہانت پر مبنی رسک مینیجمنٹ سسٹم بھی جلد فعال ہو جائے گا۔
اجلاس میں بریفنگ میں بتایا گیا کہ کسٹم میں جانچ پڑتال اور تخمینہ کے نظام کو شناخت کے بغیر (faceless) کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات پر کام جاری ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ کسٹم کی سکینرز کے ذریعے جانچ پڑتال میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے کسٹم کلیرنس میں درکار وقت کم سے کم ہوتا جا رہا ہے۔
حکومت کی اسمگلنگ کے خلاف موثر کارروائیوں سے اشیاء کی غیر قانونی ترسیل میں کمی اور اشیاء کی باقاعدہ قانونی نظام کے تحت کسٹم کلیئرنس کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
وزیراعظم نے خصوصی ہدایت دی کہ کسٹم کے جانچ پڑتال اور تخمینہ کے نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ اور فیس لیس (faceless) کر کے شفافیت کو یقینی بنایا جائے، کسٹم کے نظام کی بہتری اور جدت کا مقصد برآمدات اور درآمدات سے منسلک کاروباری حضرات کو سہولت بہم پہنچانے کے ساتھ ملکی ریونیو میں اضافہ کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسٹم جانچ پڑتال اور تخمینہ کے لیے انتظامی کارروائیوں میں درکار وقت کو کم سے کم کیا جائے، کسٹم نظام کی اصلاحات کے موثر نفاذ کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی ہم آہنگی اور مربوط حکمت عملی کے تحت کام کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ معاشی اور تجارتی اصلاحات کے ذریعے کاروبار اور سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، کسٹم نظام کی اصلاحات میں بین الاقوامی سطح پر کی جانے والی قابل عمل اور بہترین حکمت عملی سے ہر ممکن استفادہ حاصل کیا جائے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معاشی ترقی و خوشحالی اور تجارت و سرمایہ کاری میں بہتری کی منزل کے حصول کے لیے حکومت اور تمام متعلقہ ادارے پرعزم ہیں، کسٹم تخمینے پر کاروباری حضرات کی جانب سے کی جانے والی نظر ثانی اپیل سننے کا اختیار غیر جانبدار افسران کے سپرد کیا جائے۔
وزیراعظم نے کسٹم حکام اور تمام متعلقہ اداروں کو اصلاحات کے جلد، مکمل اور موثر نفاذ کے لیے ضروری ہدایات جاری کی اور کسٹم نظام میں شفافیت، ٹیکس کلیکشن میں اضافہ اور کاروباری حضرات کو سہولت جیسے اہم پہلوؤں کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر اکنامک افیئرز ڈویژن احد خان چیمہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور دیگر متعلقہ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کسٹم کے جانچ پڑتال اور جانچ پڑتال اور تخمینہ تخمینہ کے نظام کو کاروباری حضرات وفاقی وزیر میں اضافہ نظام کی فیس لیس کے لیے
پڑھیں:
کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر کریک ڈاؤن تیز، 5600 سے زائد ملزمان گرفتار
عرفان ملک:لاہور پولیس نے کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں مزید تیزی لاتے ہوئے رواں سال اب تک 5600 سے زائد ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے.
ترجمان لاہور پولیس کے مطابق اقبال ٹاؤن ڈویژن میں کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر سب سے زیادہ 2132 ملزمان گرفتار کیے گئے، جبکہ صدر ڈویژن میں 1555 اور سٹی ڈویژن میں 1040 افراد کو حراست میں لیا گیا, شہر کے مختلف تھانوں میں 651 مقدمات کا اندراج بھی یقینی بنایا گیا ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ نے کہا ہے کہ کرایہ داری ایکٹ پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے کیونکہ جرائم پیشہ عناصر کی شناخت اور ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے کرایہ داری رجسٹریشن انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ غیر رجسٹرڈ کرایہ داروں کی آڑ میں جرائم پیشہ افراد پناہ لے سکتے ہیں، اس لیے قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی اور غیر قانونی یا مشکوک افراد کو کرائے پر جگہ فراہم کرنے والے مالکان کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
بلال صدیق کمیانہ نے مکان مالکان، کرایہ داروں اور پراپرٹی ڈیلرز کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر کرایہ داری ایکٹ پر عملدرآمد یقینی بنائیں اور تمام ضروری کوائف متعلقہ پولیس ریکارڈ میں درج کروائیں تاکہ شہر میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔