کسٹم نظام فیس لیس اور شفاف بنانے کے اقدامات تیز کیے جائیں، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت کسٹم کے جانچ پڑتال اور تخمینہ کے نظام کی شفافیت اور جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزیراعظم نے ہدایت دی کہ کسٹم کے نظام کو فیس لیس (Faceless) بنا کر کاروباری حضرات کے لیے سہولت فراہم کی جائے اور ملکی ریونیو میں اضافہ کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ جانچ پڑتال اور تخمینہ کے عمل میں درکار وقت کو کم سے کم کیا جائے اور انتظامی کارروائیوں میں موثر اصلاحات متعارف کرائی جائیں۔ وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ کسٹم اصلاحات کے موثر نفاذ کے لیے باہمی ہم آہنگی اور مربوط حکمت عملی کے تحت کام کریں، جبکہ کسٹم تخمینے پر نظر ثانی اپیلوں کا اختیار غیر جانبدار افسران کے سپرد کیا جائے۔
مزید پڑھیں: بھارت کو فاش غلطی کا خمیازہ ضرور بھگتنا ہوگا، وزیراعظم محمد شہباز شریف کا قوم سے خطاب
وزیراعظم نے کہا کہ معاشی اور تجارتی اصلاحات کے ذریعے کاروبار اور سرمایہ کاری میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور کسٹم نظام میں شفافیت اس کا لازمی جزو ہے۔ پورٹس پر بڑھتی ہوئی کارگو کی بروقت ترسیل کے لیے منظم منصوبہ بندی کی جائے تاکہ سامان جلد از جلد اپنی منزل تک پہنچے۔
اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی رسک مینیجمنٹ سسٹم جلد فعال ہو جائے گا، اور کسٹم سکینرز کے ذریعے جانچ پڑتال میں AI کے استعمال سے کسٹم کلیئرنس کے عمل میں وقت کی کمی واقع ہو رہی ہے۔ حکومت کی سمگلنگ کے خلاف موثر اقدامات کے نتیجے میں غیر قانونی اشیا کی ترسیل میں کمی اور قانونی کسٹم کلیئرنس میں اضافہ ہوا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
فیس لیس اور شفاف کسٹم نظام وزیراعظم محمد شہباز شریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: فیس لیس اور شفاف وزیراعظم محمد شہباز شریف کے لیے
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔