وزیر داخلہ محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ، ہاسٹل کی تعمیراتی رفتار کو سراہا
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے زیر تعمیر گیارہ منزلہ ہاسٹل کے تعمیراتی کاموں کا معائنہ کیا۔
اس ہاسٹل میں 126 کمروں کی تعمیر کی جا رہی ہے جسے پانچ ماہ کے اندر مکمل کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ کام کی رفتار کے ساتھ معیار پر بھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
محسن نقوی نے اکیڈمی کے سوئمنگ پول کا بھی دورہ کیا اور زیر تربیت پولیس افسران کے درمیان سوئمنگ مقابلے کا مشاہدہ کیا۔
انہوں نے پروبیشنرز اور انسٹرکٹرز کی حوصلہ افزائی کی۔ وزیر داخلہ نے کلاس رومز، آفیسرز میس اور کھانے کے معیار کا بھی جائزہ لیا اور زیر تربیت افسران سے براہ راست ملاقات کر کے ان کی تجاویز بھی سنی۔
اس موقع پر وزیر داخلہ نے نیشنل پولیس اکیڈمی میں ایک اہم اجلاس کی صدارت بھی کی جس میں اکیڈمی کی تنظیمِ نو اور گزشتہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں زیر تربیت افسران کی ایف آئی اے، فرانزک ایجنسی سمیت دیگر اداروں سے اٹیچمنٹ کے فیصلوں پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
نیشنل پولیس اکیڈمی کے ڈپٹی کمانڈنٹ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نیشنل کمانڈ کورس مکمل کرنے والے اے ایس پیز کو ایم ایس کریمنالوجی اور پولیس سٹڈیز کی ڈگری دی جائے گی۔ تربیتی پروگرام میں تھانوں کے باقاعدہ دورے، سیف سٹی، ایف آئی اے، سائبر کرائم اور فرانزک کے شعبوں میں اٹیچمنٹ شامل ہے۔
زیر تربیت افسران نے نیشنل پولیس اکیڈمی میں سہولتوں کی بہتری پر وزیر داخلہ محسن نقوی کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی، چیف کمشنر اسلام آباد، ممبر انجنیئرنگ سی ڈی اے اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نیشنل پولیس اکیڈمی وزیر داخلہ محسن نقوی زیر تربیت
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔