کورنگی نورانی بستی کے قریب گھریلو جھگڑے کے دوران شوہر نے بیوی کو تیز دھار آلے کے وار سے قتل جبکہ سالے کو زخمی کر دیا۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے جائے وقوعہ سے آلہ قتل برآمد کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق کورنگی کے علاقے ڈیڑھ نمبر سیکٹر 48 اے سلور ٹاؤن میں گھر کے اندر سے تیز دھار آلے کے وار سے خاتون جاں بحق جبکہ ایک شخص زخمی ہوگیا واقعے کی اطلاع ملتے ہی زمان ٹاؤن پولیس نے موقع پر پہنچ کر مقتولہ کی لاش اور زخمی شخص کو جناح اسپتال پہنچایا۔

اس حوالے سے ایس ایچ او زمان ٹاؤن نفیس الرحمٰن نے بتایا کہ مقتولہ کی شناخت 42 سالہ خورشیدہ کے نام سے کی گئی جبکہ تیز دھار آلے کے وار سے مقتول کا بھائی محمد علی بھی زخمی ہوا ہے جبکہ پولیس نے بیوی کو قتل اور سالے کو زخمی کرنے والے ملزم اللہ دتہ کو گرفتار کر کے گھر سے آلہ قتل تیز دھار آلہ برآمد کرلیا۔

انہوں نے بتایا کہ میاں بیوی کے درمیان گھریلو جھگڑے میں قریب ہی رہائش پذیر اس کا بھائی محمد علی بھی اپنی بہن کے گھر پہنچا تھا جہاں اس کے بہنوئی ملزم اللہ دتہ نے اسے بھی تیز دھار آلے کے وار سے زخمی کر دیا۔ تاہم۔ واقعہ میاں اور بیوی میں گھریلو جھگڑے کے دوران پیش آیا ہے جس کی گرفتار ملزم شوہر سے مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہے ۔

مقتولہ چار بیٹیوں کی ماں بتائی جاتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: تیز دھار ا لے کے وار سے گھریلو جھگڑے

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق