کیا پنجاب اور سندھ کے میدانی علاقوں میں ڈیم بن سکتے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT
پاکستان میں ہونے والی حالیہ شدید بارشوں کے بعد اور بھارت کی جانب سے چھوڑے گئے پانی کے بعد ملک سیلابی صورت حال سے دو چار ہے، ہر بار کی طرح اس بار بھی یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ پاکستان میں اس پانی کو ذخیرہ کرکے اس سے مستقبل میں فائدہ اٹھانے کا کوئی منصوبہ کیوں نہیں بنایا جا رہا؟
اس حوالے سے ایک سوال پر ڈائریکٹر جنرل نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سندھ سید سلمان شاہ نے نیوز کو بتایا کہ یہ ایک متنازع سوال ہے اور ساتھ ہی سیلاب جب بھی آتا ہے تو یہ سوال اٹھنا شروع ہوجاتا ہے، انکا کہنا تھا کہ جیسے کہا جاتا ہے کہ ایسٹرن ریور پر اگر پانی کے ذخائر ہوتے تو شاید سیلاب نا آتا ڈیمز بنانے چاہیے تھے۔
مزید پڑھیں: سیلاب سے سندھ کے 15 اضلاع متاثر ہوں گے، ڈی جی پی ڈی ایم اے
سید سلمان شاہ کا کہنا ہے کہ ایسٹرن ریورز پر ڈیمز نہیں بن سکتے، ڈیم ہمیشہ پہاڑی علاقوں میں بنتے ہیں جبکہ پنجاب کے علاقے میدانی ہیں یہاں ڈیم نہیں بنائے جا سکتے۔
ڈائریکٹر جنرل نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سندھ سید سلمان شاہ کا کہنا ہے کہ ڈیمز صرف پہاڑی علاقوں میں بن سکتے ہیں، پنجاب اور سندھ کے میدانی علاقوں میں بڑے ذخائر ممکن نہیں،ورلڈ بینک کے تعاون سے چھوٹے ذخائر ضرور بنائے گئے ہیں! pic.
— WE News (@WENewsPk) August 29, 2025
سید سلمان شاہ کا کہنا ہے کہ بات کی جائے ذخیرہ کرنے کی تو چھوٹے چھوٹی ڈیمز ہیں جو ورلڈ بنک کے تعاون سے اور سندھ حکومت کے تحت ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ نے بنائے ہیں جہاں بارش کے پانی کو ذخیرہ کیا جاسکے جبکہ بڑے ذخائر کے لیے کچھ ٹیکنیکل ضروریات ہوتی ہیں جسکے بغیر میدانی علاقوں میں ڈیم نہیں بنائے جا سکتے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سید سلمان شاہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سندھ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سید سلمان شاہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سندھ سید سلمان شاہ علاقوں میں کا کہنا
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔