Express News:
2026-07-24@09:20:35 GMT

ایک سبق

اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT

ممبئی بھارت کا فنانشنل کیپیٹل کہلاتا ہے، یہ بھارت کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ 2024 کی مردم شماری کے مطابق ممبئی کی آبادی 2 کروڑ 50 لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔ کبھی ممبئی ایک چھوٹا سا جزیرہ تھا جس کے ساتھ چھ جزائر اور تھے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور میں انجینئروں نے سات جزائرکو ملا کر ایک شہر میں تبدیل کیا۔ سول انجینئرنگ کا یہ شاہکار 1845 میں مکمل ہوا۔ بمبئی کو 16اپریل 1853 میں مسافر ریل گاڑی کے ذریعے مضافاتی گاؤں تھانا سے منسلک کیا گیا۔

 پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں ممبئی کی بندرگاہ انگریز فوج کی جاپان اور جرمنی کے خلاف فوج کی سپلائی لائن کی سب سے بڑی بندرگاہ تھی۔ بھارتی حکومت نے 1950 میں ممبئی کی میونسپل حدود میں توسیع کردی تھی، یوں ممبئی ڈسٹرکٹ اور ممبئی سٹی کو ملا کر گریٹر ممبئی کارپوریشن Greater Mumbai Municipal Corporation قائم کی گئی۔ مہاراشٹرا ریاست نے 1975ء میں ممبئی میٹروپولیٹن ریجن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (BMRDA) قائم کی۔

ممبئی کا نظام ممبئی میونسپل کارپوریشن کے پاس ہے۔ یہ کارپوریشن ممبئی شہرکے تمام شہری اور انفرا اسٹرکچرکی ضروریات کی ذمے دار ہے۔گریٹر ممبئی میونسپل کارپوریشن کے منتخب کونسلر ممبئی کے میئرکا انتخاب کرتے ہیں۔ میئر کے عہدے کی میعاد ڈھائی برس ہے۔

میونسپل کمشنر کارپوریشن کے انتظامی معاملات کا ذمے دار ہوتا ہے اورکلیکٹر بلدیاتی ریونیو جمع کرنے کا ذمے دار ہوتا ہے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن کا شمار اپنی کارکردگی کے اعتبار سے بہترین کارپوریشنز میں ہوتا ہے۔ اس طرح ممبئی ٹریفک پولیس ایک نیم خود مختار ادارہ ہے جو ممبئی پولیس کی نگرانی میں کام کرتا ہے۔ ممبئی پولیس کا سربراہ پولیس کمشنرکہلاتا ہے۔ ممبئی شہر کو وارڈ میں تقسیم کیا گیا ہے۔

 ممبئی اور کراچی کا مون سون ایک جیسا ہے مگر ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ممبئی میں کراچی کی نسبت زیادہ بارش ہوتی ہے۔ وکی پیڈیا پر دستیاب اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ممبئی میں اوسطاً 919.

9 MM تک بارش ہوتی ہے۔ اس سال اگست کے مہینے میں صرف چار دنوں میں 300 سے 369ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

ممبئی میں ہمیشہ سے زبردست بارشیںہوتی رہی ہیں۔ بعض دفعہ تو کئی کئی دن تک بارش ہوتی رہتی ہے۔ ایک زمانے میں ممبئی کا انفرا اسٹرکچر اتنا کمزور تھا کہ 24 گھنٹوں کی بارش میں تباہی مچ جاتی تھی اور سیکڑوں افراد ہلاک ہوتے تھے اور شہر سے ہفتوں مہینوں پانی کی نکاسی نہیں ہوپاتی تھی۔ 26 جولائی 2005 ممبئی کے شہریوں کا ایک بدقسمت دن تھا۔ اس دن 24 گھنٹوں کے دوران 944 ملی میٹر ریکارڈ بارش ہوئی۔ یہ بارش دو دن تک جاری رہی۔

اس بارش میں ہزاروں بچے اسکولوں سے اگلے 24 گھنٹوں میں اپنے گھروں تک پہنچ نہیں پائے تھے۔ لاکھوں عورتیں اور مرد بارش کے دوران پھنس کر رہ گئے تھے۔ اس بارش کے دوران ممبئی کا سیوریج نظام مکمل طور پر تباہ ہوگیا تھا۔ اس بارش میں 914 افراد ہلاک ہوئے تھے،ہزاروں افراد زخمی ہوئے اور اربوں روپے کی املاک تباہ ہوئیں۔ مہاراشٹر گورنمنٹ اور ممبئی کی گریٹر میونسپل کارپوریشن نے ممبئی میں پانی کی نکاسی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی۔ ان منصوبوں پر عمل درآمد کے نتیجے میں مسلسل بارشوں کے نقصانات کم سے کم ہونے لگے۔

ممبئی میں منگل 19اگست کو 24گھنے تک شدید بارش ہوئی۔ اس بارش نے پورے ممبئی شہر کو جل تھل کر کے رکھ دیا۔ بھارت میں محکمہ موسمیات کی ساکھ بہت بہتر ہے۔ محکمہ موسمیات نے پہلے ہی 19 اگست کو ممبئی میں شدید بارشوں کی پیشگوئی کردی تھی۔ گریٹر ممبئی میونسپل کارپوریشن نے اس کا مقابلہ کرنے کے لیے سخت ہدایات جاری کی تھیں۔ بھارت کے معروف اخبار ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ممبئی میونسپل کارپوریشن نے ہدایات جاری کی تھیں کہ منگل کو تمام سرکاری دفاتر بند رکھے جائیں۔

اس دفعہ پرائیوٹ دفاتر کی انتظامیہ کو کہا گیا کہ اپنے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایات جاری کی جائیں اور ملازمین کو غیر ضروری سفر پر مجبور نہ کیا جائے۔ تمام تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ کارپوریشن نے سوک ایجنسیوں اور ضروری سروس Essential Serviceکو اپنے فرائض بدستور انجام دینے کی ہدایت دی تھی۔ ہندوستان ٹائمز نے لکھا ہے کہ ممبئی میونسپل کارپوریشن ہنگامی حالات میں ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (D.M.A) کی حیثیت سے فیصلے کرنے کی مجاز ہے۔

اس بناء پر میونسپل حدود کے تمام سرکاری اور غیر سرکاری ادارے ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے فیصلوں پر عمل درآمد کے پابند ہوتے ہیں، اس کا مظاہرہ 19اگست کو ہوا۔ ممبئی شہر میں زبردست بارش کے باوجود سڑکوں پر جمع ہونے والا پانی قدرتی راستوں سے نالوں سے گزرتا ہوا بحیرئہ عرب میں چلا گیا۔ شہر میں مکمل تعطیل ہونے کی بناء پر اسکول،کالج اور یونیورسٹیوں سے واپس آنے والے اساتذہ، طلبہ اور عملہ بارش میں نہیں تھا اور ٹریفک پولیس کے منظم نظام کی بناء پر سڑکوں پر ٹریفک جام نہیں ہوا۔ برطانوی نشریاتی ادارہ بی بی سی کے نمایندے نے 19اگست کو ممبئی میں ہونے والی موسلادھار بارش کا حال بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ممبئی کی سڑکیں جھیلوں اور نالوں میں تبدیل ہوگئی تھیں۔ بہت سے لوگوں نے ان مصنوعی جھیلوں میں بارش کے پانی میں تیرتے ہوئے اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کیں۔

بی بی سی کی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بارش کے دوران ممبئی کا مونوریل تک کا ایئرکنڈیشن سسٹم رک گیا۔ مونوریل میں 600 کے قریب مسافر سوار تھے اور مونوریل میں اس کی گنجائش سے زیادہ مسافر سوار ہونے کی جگہ نہ تھی۔ مونوریل کا ایئر کنڈیشن سسٹم بند ہوا تو 23 افراد گھٹن کا شکار ہوئے جنھیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی تھی۔ حکام نے مونوریل میں سوار تمام 600 افراد کو باحفاظت ریل سے اتار لیا ۔ بی بی سی کے نمایندے نے اس رپورٹ میں یہ بھی لکھا کہ نشیبی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا۔ 365 افراد کو حفاظتی مقامات پر منتقل کیا گیا۔ اس رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ مہاراشٹرا ریاست میں اگست کے مہینے میں 800 ملی میٹر کے قریب بارش ریکارڈ کی گئی۔

ممبئی میں بارشوں کے درمیان ایک زمانے میں سیکڑوں ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ بمبئی شہر کی کچی آبادیوں میں جو پانی آتا ہے وہ ہفتوں جمع رہتا تھا مگر نچلی سطح تک کے اختیارات کے بلدیاتی نظام کے ذریعے ممبئی میں پانی کی نکاسی اور ریسکیو آپریشن کو جدید خطوط پر منظم کیا گیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ابرِ رحمت ممبئی کے شہریوں کے لیے ابرِ زحمت نہیں رہی۔

جب 26 جولائی 2005 کو بارشوں نے ممبئی کے انفرا اسٹرکچر کو تباہ کیا تو نئی دلی اور مہاراشٹرا ریاست کی حکومتوں اور ممبئی کی گریٹر میونسپل کارپوریشن نے اس مسئلے کے حل کے لیے ایک طرف اقدامات کیے تو دوسری طرف ممبئی کی فلمی صنعت نے 26 جولائی 2005 کی تباہ کاریوں کو اجاگر کرنے کے لیے معرکتہ الاراء فلمیں بنائیں، یوں رائے عامہ ہموار ہوئی۔ بھارت میں مجموعی طور پر ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ممبئی کی انتظامیہ جب بھی محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق اقدامات کا اعلان کرتی ہے تو عوام ان اقدامات کو عملی شکل دینے میں مکمل تعاون کرتے ہیں۔

کراچی میں 19 اگست 2025کی بارش میں جو تباہی ہوئی اس کا ذکر تو مستقل ہو ہی رہا ہے مگر اب بھی اسلام آباد اور کراچی کی حکومتوں کو ممبئی کے بارش کے تجربے سے نمٹنے کے اقدامات سے سبق سیکھنا چاہیے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ممبئی میونسپل کارپوریشن میونسپل کارپوریشن نے ہے کہ ممبئی رپورٹ میں ممبئی کا ممبئی کے ممبئی کی کے دوران اگست کو بارش کے ہوتا ہے کیا گیا کے لیے گیا ہے کی گئی

پڑھیں:

ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی

ملک بھر میں مون سون کا سلسلہ برقرار ہے، جبکہ محکمہ موسمیات نے آج جمعہ کے روز پنجاب، اسلام آباد، خیبرپختونخوا، شمال مشرقی بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور چند مقامات پر موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے آنے والی مون سون ہوائیں ملک کے بالائی علاقوں پر اثرانداز ہیں، جبکہ مغربی ہواؤں کا ایک سلسلہ بھی موسم کو متاثر کر رہا ہے۔ اس کے باعث بالائی اور وسطی علاقوں میں بارشوں کا امکان برقرار رہے گا۔

پیش گوئی کے مطابق اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، شیخوپورہ، فیصل آباد، سرگودھا، مری، گلیات، جہلم، اٹک اور چکوال سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں وقفے وقفے سے بارش متوقع ہے۔ خیبرپختونخوا کے پشاور، مردان، صوابی، نوشہرہ، ایبٹ آباد، مانسہرہ، سوات، دیر، چترال، کوہستان اور دیگر بالائی علاقوں میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

Hours of torrential rain have triggered severe flooding in Lahore, submerging thousands of homes and affecting millions in Pakistan’s second-largest city. The extreme monsoon weather has caused widespread damage, according to emergency services. Residents say it is the worst… pic.twitter.com/IYCbDSEg9Y

— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) July 22, 2026

آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی بارش کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے، جبکہ شمال مشرقی بلوچستان کے کوئٹہ، زیارت، ژوب، موسیٰ خیل، بارکھان اور ملحقہ علاقوں میں کہیں کہیں بارش ہو سکتی ہے۔ سندھ کے بالائی اور جنوب مشرقی علاقوں میں چند مقامات پر بارش کا امکان ہے، تاہم صوبے کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بعض علاقوں میں شدید بارش کے باعث شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ، برساتی ندی نالوں میں طغیانی اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔ متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے جبکہ شہریوں، بالخصوص سیاحوں اور پہاڑی علاقوں کا سفر کرنے والوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خیبر میں سیلابی ریلوں سے 6 افراد جاں بحق، ریسکیو 1122 کا بڑا آپریشن مکمل

ادھر قومی و صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں نے بھی مقامی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ تیز بارش، آندھی یا گرج چمک کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور موسم سے متعلق سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

این ڈی ایم اے بارش پاکستان سیلاب محکمہ موسمیات

متعلقہ مضامین

  • مون سون کا طاقتور سپیل جاری، مختلف علاقوں میں آج بھی بارشوں کی پیشگوئی
  • لاہور میں آج موسم ابرآلود، بارش کا کتنا امکان؟
  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا