پشاور سے ہزاروں گرام منشیات پنجاب اسمگل کرنے کی کوشش ناکام، منظم گروہ کا کارندہ گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 31st, August 2025 GMT
لاہور پولیس نے صوابی انٹر چینج کے قریب بین الصوبائی منشیات اسمگلر گرفتارکرکے ان کے قبضے سے صوبہ پنجاب اسمگل کی جانے والی منشیات کی بھاری کھیپ برآمد کر لی۔
ڈی پی او آفس سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ایس ایچ اوتھانہ لاہور الطاف خان نے پولیس ٹیم کے ہمراہ منشیات کی بھاری کھیپ اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے ایک ملزم عثمان غنی کو گرفتار کر لیا۔
گرفتار ملزم ضلع پشاور ہشت نگری کا رہائشی ہے جس کا تعلق منظم منشیات اسمگلر گروہ سے ہے جو بمقام انبار انٹر چینج میں کھڑی ہوکر پرائیویٹ گاڑی کے ذریعے منشیات اپنجاب اسمگل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
پولیس ٹیم نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ ملزم کی دوران تلاشی ان کے ساتھ بیگ سے 07 پیکٹ چرس یعنی 7396 گرام چرس برامد کرکے حوالات میں بند کر کے مزید تفتیش شروع کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک