اپیلیں دائر کرنے میں حکومتی تاخیر غیر سنجیدہ رویہ، سپریم کورٹ
اشاعت کی تاریخ: 31st, August 2025 GMT
اسلام آباد:
سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ متعدد بار یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں اور خودمختار ادارے اکثر اپیلیں طے شدہ مدت گزر جانے کے بعد دائر کرتے ہیں، تاخیر کے جواز کے طور پر ہمیشہ یہ موقف اختیار کیا جاتا ہے کہ یہ وقت محکمانہ کارروائی مکمل کرنے اور مجاز اتھارٹی سے حتمی ہدایات لینے میں خرچ ہوا۔
جسٹس محمد علی مظہر کے تحریر کردہ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ تاخیر سے دائر کی گئی اپیل کی معافی صرف اس وقت دی جا سکتی ہے جب اس کے لیے ناگزیر وجوہات موجود ہوں اور ہر دن کی تاخیر کی وضاحت بھی فراہم کی جائے،انتظامی تاخیر کا ناقابلِ قبول جواز ایک ایسا رجحان بن چکا ہے جسے لگ بھگ ہر کیس میں بار بار پیش کیا جاتا ہے لیکن ہماری رائے میں اسے مناسب جواز نہیں کہا جا سکتا۔
بعض اوقات، یہ غیرسنجیدہ اور لاپروائی پر مبنی رویہ بدنیتی کا تاثر دیتا ہے اور یقین پیدا کرتا ہے کہ اپیل جان بوجھ کر تاخیر سے محض رسمی کارروائی کے طور پر دائر کی جا رہی ہے تاکہ مخالف فریق کو بلاجواز فائدہ پہنچایا جا سکے نہ کہ واقعی عدالتی فیصلے کو چیلنج کرنے کے کسی خلوصِ نیت کے تحت۔ قانون کا رجحان مقدمات کا فیصلہ میرٹ پر کرنے کے حق میں ہے۔
لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک نہایت اہم اصول کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ قانون اُن لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے بیدار اور محتاط رہتے ہیں نہ کہ اُن کی جو سست روی یا غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں،ایک لاطینی کہاوت کے مطابق قانون اُن لوگوں کی اعانت کرتا ہے جو اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے چوکس ہوں نہ کہ اُن کی جو سستی یا لاپرواہی اختیار کریں۔
اگر کوئی شخص یا ادارہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے مقررہ وقت میں قانونی چارہ جوئی نہیں کرتا اور اس دوران خاموشی اختیار کیے رکھتا ہے تو وہ اپنا قانونی حق ضائع کر سکتا ہے،قانون کے سامنے مساوات کا اصول یہ تقاضا کرتا ہے کہ تمام فریقین بشمول ریاست، کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے اور قانون کو منصفانہ طور پر نافذ کیا جائے۔
عدالت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مدتِ معیاد کے سوال کا خود ازخود جائزہ لے چاہے فریقین میں سے کوئی اس پر اعتراض اٹھائے یا نہ اٹھائے،لاپرواہی، دانستہ تاخیر، واضح سستی یا نیک نیتی کی کمی کسی بھی صورت میں تاخیر کے جواز کے طور پر قبول نہیں کی جا سکتی، جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل تین رکنی بنچ نے سندھ حکومت کی اپیل تاخیر سے دائر کرنے کے سبب مسترد کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کرتا ہے کے لیے کیا جا
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔