Express News:
2026-07-24@06:47:51 GMT

شنگھائی تعاون تنظیم اور بھارت کا منفی کردار

اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT

دنیا کے مختلف ممالک نے اپنے اپنے سیاسی، معاشی، دفاعی اور تجارتی مقاصد کو فروغ دیے اور ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کو مربوط و مستحکم کرنے کے لیے مختلف اتحاد بنا رکھے ہیں جن میں جی سیون، جی ٹوئنٹی، کواڈ، نیٹو اور ایس سی او شامل ہیں۔

اپنے ملکوں کی معیشت و اقتصادی استحکام کو ترقی دینے، فوجی تعاون کو بڑھانے اور علاقائی تعاون کے فروغ اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اور ضروری اقدامات کے حوالے سے اتحادی ممالک ایک دوسرے کا دست و بازو بن کر اپنے اتحاد کو مزید فروغ دینے اور زیادہ سے زیادہ فوائد کے حصول کو اپنا مطمع نظر سمجھتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سب سے مضبوط اور طاقتور اتحاد نیٹو ممالک کا ہے۔

نیٹو یعنی نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن کا قیام دوسری جنگ عظیم کے بعد 1949 میں عمل میں آیا تھا۔ اس کے قیام کا مقصد درحقیقت یورپ میں اس وقت کی سوویت یونین (روس) کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کو روکنا تھا۔ نیٹو کا سب سے طاقتور ملک امریکا ہے جس نے اس اتحاد کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا جب کہ دیگر ممالک میں برطانیہ، بیلجیم، کینیڈا، ڈنمارک، فرانس، آئس لینڈ، لکسمبرگ، ہالینڈ، ناروے اور پرتگال بھی نیٹو کے بانی اراکین میں شامل ہیں۔

اس وقت نیٹو کے کل رکن ممالک کی تعداد 31 ہے۔ یہ اتحاد تمام رکن ممالک کی اجتماعی سیکیورٹی کا ذمے دار ہے۔ اگر نیٹو کے کسی بھی رکن ملک کو بیرونی جارحیت کا سامنا ہو تو اتحاد پر لازم ہے کہ وہ اس کے دفاع کے لیے اجتماعی طور پر اقدامات اٹھائے۔

نیٹو کے بنیادی چارٹر کے آرٹیکل پانچ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ’’تمام فریق اس بات پر متفق ہیں کہ یورپ یا شمالی امریکا میں ان میں سے کسی ایک ملک پر یا ایک سے زیادہ کے خلاف مسلح حملہ ہوتا ہے تو اسے سب کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا اور اس کے نتیجے میں وہ اس بات پر متفق ہیں کہ اگر ایسا مسلح حملہ ہوتا ہے تو ان میں سے ہر ایک انفرادی طور پر یا تمام فریق اقوام متحدہ کے چارٹر کے تسلیم شدہ آرٹیکل 51 کی طرف سے خود کے دفاع کے اپنے حق کا استعمال کرنے کے مجاز ہیں۔

امریکا نے 9/11 کے سانحے کے بعد نیٹو چارٹر کی اس کلاز کا فائدہ اٹھانے والے اپنے اتحادی ممالک کی مدد سے افغانستان پر حملہ کیا تھا اور طالبان حکومت کا خاتمہ کرکے اپنی مرضی کی کٹھ پتلی حکومت قائم کی تھی لیکن گوریلا جنگ ماہر افغانوں نے امریکا جیسی سپرپاور اور اس کے نیٹو اتحادیوں کو طویل جنگ کے بعد پسپائی پر مجبور کر دیا تھا اور امریکا کو عالمی رسوائی کے ساتھ افغانستان سے نکلنا پڑا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یوکرین روس جنگ بندی کے لیے سر توڑ کوشش کر رہے ہیں۔ چوں کہ یوکرین نیٹو کا اتحادی ملک ہے لہٰذا ٹرمپ نے اپنے اتحادی کو جنگ سے بچانے کے لیے روسی صدر پیوٹن سے تین گھنٹے طویل ملاقات بھی کی لیکن اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو سکا۔ روس امریکا جنگ تاحال جاری ہے۔

عالمی مبصرین و تجزیہ نگار پیوٹن ٹرمپ ملاقات کو ناکامی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ اگرچہ امریکی صدر ٹرمپ نے پاک بھارت حالیہ جنگ اور ایران اسرائیل جنگ بند کروانے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا جس کا وہ بجا طور پر کریڈٹ لیتے ہیں بالخصوص پاک بھارت جنگ رکوانے کا وہ متعدد بار ذکر کر چکے ہیں لیکن بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پاک بھارت جنگ رکوانے میں صدر ٹرمپ کے اہم رول کو تسلیم کرنے سے مسلسل انکار کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ امریکا بھارت میں قربتیں ختم اور فاصلے طویل ہونے لگے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے بھارت پر تجارتی دباؤ بڑھاتے ہوئے 50 فی صد ٹیرف عائد کر دیا ہے جس سے سرد مہری میں مزید اضافہ ہوا نتیجتاً ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت میں ہونے والے کواڈ سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ منسوخ کر دیا جو بھارت کے لیے یقینا بڑا معاشی جھٹکا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مجوزہ دورہ بھارت کی منسوخی کی خبروں سے نئی دہلی میں مایوسی کے گہرے بادل چھا گئے ہیں۔

نریندر مودی شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے چین گئے ، وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف بھی چینی شہر تیانجن میں موجود ہیں۔ پاک بھارت حالیہ جنگ کے محض 113 دنوں بعد پاک بھارت وزرائے اعظم ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں گے۔ لیکن دونوں رہنماؤں کے درمیان کسی باضابطہ ملاقات اور باہمی تنازعات جن میں مسئلہ کشمیر سرفہرست ہے پر بات چیت کا کوئی امکان نہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کی بنیاد 2001 میں رکھی گئی تھی چین اور روس اس تنظیم کے بانی اراکین ہیں۔ بعدازاں تنظیم میں قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ازبکستان، پاکستان، ایران اور انڈیا بھی شامل ہو گئے۔

یہ تنظیم دنیا کی کل آبادی کے 40 فی صد حصے کا ایک اہم فورم ہے جسے نیٹو اتحاد کے متبادل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے چارٹر میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ رکن ممالک اپنے باہمی تنازعات اور اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کریں گے۔

اس ضمن میں پاکستان نے ہمیشہ آگے بڑھ کر بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تمام مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے لیکن بھارت کے منفی کردار اور جارحانہ عزائم کے باعث شنگھائی تعاون تنظیم اپنے اصل مقاصد حاصل کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ رکن ممالک کو بھارت پر یہ دباؤ ڈالنا چاہیے کہ تنظیم کے چارٹر کی پاس داری کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: شنگھائی تعاون تنظیم پاک بھارت رکن ممالک تنظیم کے نیٹو کے

پڑھیں:

علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 

پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کیلئےمعاہدے
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار