ایس سی او کانفرنس کااعلامیہ: انسداد دہشتگردی، عالمی تعاون اور ترقیاتی اقدامات پر زور
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
چین کے ساحلی شہر تیانجن میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اہم اجلاس میں جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے میں پاکستان اور بھارت میں حالیہ دہشتگرد حملوں — بشمول جعفر ایکسپریس، خضدار، اور پہلگام واقعات — کی شدید مذمت کی گئی۔ رکن ممالک نے ان حملوں کو خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے دہشتگردی کے خلاف متحدہ موقف اپنایا۔
اجلاس کے دوران سیکیورٹی اور علاقائی استحکام کے حوالے سے کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ رکن ممالک نے دہشتگردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے خلاف مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس مقصد کے لیے “یونیورسل سکیورٹی سینٹر” اور “اینٹی ڈرگ سینٹر” کے قیام کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جبکہ “انسداد دہشت گردی تعاون پروگرام 2025–2027” پر عملدرآمد جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا گیا۔
اعلامیے میں جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی توثیق کرتے ہوئے پرامن ایٹمی توانائی تک مساوی رسائی کی حمایت کی گئی۔ شرکا نے کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں سے متعلق عالمی کنونشنز پر مکمل عملدرآمد پر زور دیا۔
معاشی میدان میں بھی اجلاس کئی اہم پیش رفت کا حامل رہا۔ رکن ممالک نے عالمی تجارتی نظام کو مضبوط بنانے، یکطرفہ اقتصادی پابندیوں کی مخالفت، اور ڈیجیٹل معیشت و ای-کامرس میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ ایک اہم پیش رفت کے طور پر “ایس سی او ڈیولپمنٹ بینک” کے قیام کا فیصلہ بھی کیا گیا، جو رکن ممالک کے درمیان مالیاتی تعاون کو مزید وسعت دے گا۔
عالمی امور پر بات کرتے ہوئے تنظیم نے فلسطین میں فوری اور پائیدار جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا، اور انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی کی حمایت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: رکن ممالک
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔