اسلام آباد: ریڈ زون اور ڈپلومیٹک انکلیو میں سیکیورٹی مزید سخت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق ایس ایس پی سیکیورٹی کیپٹن (ر) سید ذیشان حیدر کی خصوصی ہدایات پر وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
ڈپلومیٹک انکلیو اور ہائی سیکیورٹی زون کے داخلی راستوں پر اضافی اقدامات کیے گئے ہیں جبکہ پڑتال کے عمل کو جدید تکنیکی بنیادوں پر مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ ایس ایس پی سیکیورٹی کے مطابق افسران فیلڈ میں موجود رہ کر انتظامات کی نگرانی کر رہے ہیں اور سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ریڈ زون کی کڑی نگرانی جاری ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد پولیس کی ٹیم پر مبینہ فائرنگ کا واقعہ، گرفتار ملزم زخمی
انہوں نے کہا کہ سفارت خانوں، اقوام متحدہ دفاتر اور دیگر سرکاری املاک کی حفاظت کے لیے سکیورٹی کو مزید مضبوط کیا گیا ہے۔ پولیس افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ ڈیوٹی میں کسی قسم کی غفلت یا لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
کیپٹن (ر) سید ذیشان حیدر نے ریڈ زون میں داخل ہونے والے سرکاری اور نیم سرکاری ملازمین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے محکمانہ کارڈز ہمراہ رکھیں۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ پڑتال کے عمل میں پولیس سے مکمل تعاون کریں اور کسی مشکوک شخص یا سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر ’پکار 15‘ پر اطلاع دیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد پولیس ڈپلومیٹک انکلیو ریڈ زون.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد پولیس ڈپلومیٹک انکلیو ریڈ زون ریڈ زون
پڑھیں:
امتحان میں کامیابی کے باوجود عبدالمجید نوکری سے محروم، عمر کی حد رکاوٹ بن گئی
بھارتی ریاست کیرالہ(Kerala) سے ایک غیر معمولی اور حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک شخص کو سرکاری نوکری کا تقرری نامہ امتحان دینے کے 21 سال بعد جاری کیا گیا، تاہم اس وقت تک وہ عمر کی قانونی حد عبور کر چکا تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق عبدالمجید نے 2005 میں جونیئر عربی ٹیچر کی آسامی کے لیے امتحان دیا تھا۔ وہ اس امتحان میں کامیاب امیدواروں کی فہرست میں بھی شامل تھے، تاہم اس وقت انہیں تقرری نہیں مل سکی۔ سرکاری فہرست کی مدت تین سال تھی جو 2008 میں ختم ہو گئی، مگر اس دوران خالی آسامی کو پر نہیں کیا جا سکا۔
طویل عرصے تک معاملہ التوا میں رہنے کے بعد 24 اپریل 2026 کو اچانک عبدالمجید کو تقرری نامہ جاری کر دیا گیا۔ لیکن چونکہ اس وقت تک ان کی عمر 60 سال ہو چکی تھی، اس لیے وہ سرکاری ملازمت کے لیے قانونی طور پر اہل نہیں رہے اور ملازمت سنبھال نہیں سکے۔
یہ صورتحال نہ صرف ایک فرد کے لیے مایوسی کا باعث بنی بلکہ سرکاری نظام کی سست روی اور انتظامی تاخیر پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عبدالمجید کا کہنا ہے کہ اگر انہیں بروقت تقرری مل جاتی تو وہ برسوں پہلے اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہوتے اور ان کا کیریئر مختلف ہوتا۔
مزیدپڑھیں:فیفا ورلڈکپ 2026 کا آغاز 12 جون سے
مزید دلچسپ اور متنازع پہلو اس وقت سامنے آیا جب ان کے تعلیمی ریکارڈ میں تاریخ پیدائش 27 مئی 1966 درج ہے، جبکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی اصل تاریخ پیدائش 27 مئی 1967 ہے۔ ان کے مطابق اگر سرکاری ریکارڈ میں ایک سال کی درستگی کر دی جائے تو وہ اب بھی ملازمت کے اہل ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے اس حوالے سے ریاستی وزیر تعلیم اور قانونی ماہرین کو باضابطہ درخواستیں بھی جمع کروائی ہیں، جن میں انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث ہے، جہاں صارفین کی بڑی تعداد نے سرکاری نظام میں طویل تاخیر اور انتظامی ناکامی پر تنقید کی ہے، جبکہ کچھ لوگوں نے متاثرہ شخص سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔