پاکستان کی افغانستان کے زلزلہ متاثرین سے یکجہتی، 105 ٹن امدادی سامان روانہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
پاکستان نے افغانستان میں حالیہ تباہ کن زلزلے سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے 105 ٹن امدادی سامان روانہ کر دیا ہے، جو انسانی ہمدردی کے جذبے اور برادرانہ تعلقات کا مظہر ہے۔
یہ سامان وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر بھجوایا جا رہا ہے اور اس کا مقصد شدید متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی فوری ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ سامان کی روانگی کی تقریب این ڈی ایم اے کے ویئر ہاؤس، اسلام آباد میں ہوئی، جس میں وفاقی وزیر کھیل داس کوہستانی، این ڈی ایم اے اور وزارتِ خارجہ کے حکام شریک ہوئے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق امدادی سامان میں راشن بیگز، خیمے، کمبل، چٹائیاں، ضروری ادویات شامل ہیں
یہ تمام امداد 5 کنٹینرز پر مشتمل 40 فٹ کے ٹرکوں کے ذریعے طورخم بارڈر کے راستے افغانستان روانہ کی گئی ہے۔
■ ہولناک زلزلہ، ہزاروں متاثر
یاد رہے کہ افغانستان میں اتوار کی رات آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں 1400 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 3 ہزار سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ متاثرہ علاقوں میں بنیادی سہولیات ناپید ہیں، اور شدید سرد موسم کے پیش نظر فوری امداد کی اشد ضرورت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔