ڈاکٹر نبیحہ کیس میں ٹرننگ پوائنٹ: جس گھر کو وہ اپنا بتارہی تھی، کرائے کا نکلا
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
لاہور میں دریائے راوی کے کنارے واقع ایک معروف سوسائٹی کی رہائشی ڈاکٹر نبیحہ علی خان کی ویڈیو سے شروع ہونے والی کہانی ایک نیا رخ اختیار کر گئی ہے۔ واضح رہے کہ دریائے راوی میں طغیانی کے باعث پارک ویو سمیت متعدد ہاؤسنگ سوسائٹیز میں پانی داخل ہوگیا، جس سے متعدد گھر زیرِ آب آگئے۔
متاثرین نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز شیئر کیں، جن میں ڈاکٹر نبیحہ علی خان بھی شامل تھیں۔ ان ویڈیوز سے شروع ہونے والی کہانی نے ایک نیا موڑ اختیار کیا ہے اور یہ انکشاف ہوا ہے کہ ڈاکٹر نبیحہ علی خان جس گھر میں پانی داخل ہونے اور اس کی ملکیت کا دعویٰ کر رہی تھیں، وہ ان کا ملکیتی گھر نہیں ہے، بلکہ وہ کرائے پر رہ رہی ہیں۔
ڈاکٹر نبیحہ نے اپنے ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ پہلے 2 سال تک اسی سوسائٹی میں کرایہ پر رہتی رہی ہیں۔ اسی دوران ان کے بھائی نے سوسائٹی نے زمین خریدی اور اس پر گھر تعمیر کیا جس میں وہ رہائش پذیر ہیں۔
ان کے مطابق یہ گھر بنانے پر کروڑوں روپے خرچ ہوئے اور ماضی میں انہیں کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا، تاہم اب سیلاب کے بعد وہ سوسائٹی میں مزید رہائش اختیار نہیں کرنا چاہتیں۔
پوڈ کاسٹ میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ مالکان متاثرہ مکینوں کو معاوضہ فراہم کریں کیونکہ انہیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ یہاں ہر سہولت میسر ہوگی۔
تاہم حال ہی میں ایک دوسرے انٹرویو میں مکان کے اصل مالک سامنے آئے۔ ان کا نام حنیف گورائیہ ہے اور وہ بنیادی طور پر ایک وکیل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اکتوبر 2024 میں ڈاکٹر نبیحہ کے بھائی سے معاہدہ کرایہ داری کیا تھا اور وہ ڈاکٹر نبیحہ کے بھائی کی شناخت سے ناواقف تھے۔ مالک مکان نے اس موقع پر کرایہ نامی بھی دکھایا۔
مالک مکان کے مطابق ڈاکٹر نبیحہ کرایہ دار ہیں، مالک نہیں۔ اگر انہیں بات کرنا تھی تو سوسائٹی کے مسائل پر کرنی چاہیے تھی، نہ کہ وہ خود کو مالک ظاہر کرتیں۔
مالک مکان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے گھر میں اندر تک پانی نہیں آیا، ملحقہ خالی پلاٹ میں پانی ضرور آیا جس کی وجہ سے ان کے گھر کی بنیادوں کا نقصان ہوا۔
’ڈاکٹر نبیحہ نے آواز اٹھائی ہے تو یہ اچھی بات ہے۔ اگر اس کے جواب میں سوسائٹی نقصان پورا کر رہی ہے تو یہ بھی اچھی بات ہے۔‘
اسی دوران ڈاکٹر نبیحہ نے وضاحت دی کہ انہوں نے کبھی مکان کو اپنی ملکیت قرار نہیں دیا۔ یہی کہا تھا کہ مکان ان کے بھائی کے نام پر ہے۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ مکان کی ملکیت نہیں بلکہ سیلاب سے ہونے والا نقصان ہے، جس سے وہ اور دیگر خاندان متاثر ہوئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی ویڈیو کا مقصد متاثرہ رہائشیوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا تھا، نہ کہ ذاتی فائدہ۔ انہوں نے اس الزام کو غلط قرار دیا کہ انہوں نے ویڈیوز بنانے کے لیے کسی سے کوئی روپیہ پیسہ لیا ہے۔
ڈاکٹر نبیحہ نے یہ بھی کہا کہ سیلاب کے دوران ان کا آئی فون 16 پرو میکس بھی گم ہوگیا ہے، جو اب تک نہیں ملا۔ علاوہ ازیں انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کا کروڑوں کا نقصان ہوا ہے جس میں جیولری اور نقدی بھی شامل تھی اور گھر کا نیا فرنیچر بھی تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ جیولری کی مالیت اور نقدی کتنی تھی، انہوں نے بتانے سے گریز کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پارک ویو سوسائٹی لاہور دریائے راوی ڈاکٹر نبیحہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دریائے راوی ڈاکٹر نبیحہ ڈاکٹر نبیحہ نے انہوں نے کے بھائی یہ بھی
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔