نیپال میں فیس بک سمیت متعدد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 5th, September 2025 GMT
نیپال نے فیس بک سمیت کئی بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بند کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جمعرات کو حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ملک میں مخصوص سوشل میڈیا ایپس تک رسائی روک دی جائے گی۔ حکام کا مؤقف ہے کہ یہ پلیٹ فارمز اپنے غلط استعمال کے خلاف کارروائی میں حکومت کے ساتھ تعاون کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
نیپالی حکومت نے دعویٰ کیا کہ جعلی اکاؤنٹس رکھنے والے افراد سوشل میڈیا پر افواہیں اور نفرت انگیز مواد پھیلا رہے ہیں جس سے سائبر کرائمز میں اضافہ اور معاشرتی ہم آہنگی متاثر ہورہی ہے۔ خیال رہے کہ نیپال کی 3 کروڑ کی آبادی میں سے 90 فیصد افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے اس مسئلے کی سنگینی مزید بڑھ گئی ہے۔
اس سے قبل حکام نے تمام سوشل میڈیا کمپنیوں کو بدھ تک کی مہلت دی تھی کہ وہ وزارت مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ساتھ رجسٹریشن کرائیں، مقامی رابطہ کار مقرر کریں، شکایات دیکھنے والا افسر نامزد کریں اور ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں، بصورت دیگر ان پر پابندی عائد کردی جائے گی۔
جمعرات ہی کے روز جاری ہونے والے سرکاری نوٹس کے مطابق نیپال ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو ہدایت دی گئی کہ جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز حکومتی شرائط پر پورا نہیں اترتے انہیں فوری طور پر غیر فعال کردیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پلیٹ فارمز سوشل میڈیا
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ