قومی دفاع معاشی استحکام کے بغیر ممکن نہیں، محنت اور عزم سے ہی ہم معاشی خود مختاری حاصل کر سکتے ہیں ، صدر ایف پی سی سی آئی
اشاعت کی تاریخ: 6th, September 2025 GMT
قومی دفاع معاشی استحکام کے بغیر ممکن نہیں، محنت اور عزم سے ہی ہم معاشی خود مختاری حاصل کر سکتے ہیں ، صدر ایف پی سی سی آئی WhatsAppFacebookTwitter 0 6 September, 2025 سب نیوز
اندرونی و بیرونی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمیں قومی یکجہتی کو فروغ اور معیشت کو مضبوط بنانا ہوگا،یوم دفاع پاکستان کے موقع پر پیغام
اسلام آباد ()صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ6ستمبر ہماری خودمختاری اور قومی وقار کے تحفظ کا روشن اور سنہری باب ہے، پاکستان ایک بہادر قوم جو اپنی خودمختاری اور سالمیت کے تحفظ کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے، قومی دفاع معاشی استحکام کے بغیر ممکن نہیں، محنت سے ہی ہم معاشی خود مختاری حاصل کر سکتے ہیں ، اندرونی و بیرونی چیلنجز کے مقابلے کیلئے ہمیں قومی یکجہتی کو فروغ اور معیشت کو مضبوط بنانا ہوگا۔
صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے یوم دفاع پاکستان کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یومِ دفاع کے موقع پرافواجِ پاکستان اور شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں، 6ستمبر ہماری خودمختاری اور قومی وقار کے تحفظ کا روشن اور سنہری باب ہے، 65 کی جنگ میں افواجِ پاکستان کی جرات اور شجاعت آئندہ نسلوں کیلئے مشعل راہ ہے،پاکستان ایک بہادر قوم جو اپنی خودمختاری اور سالمیت کے تحفظ کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں ایک بار پھر مسلح افواج نے بہادری سے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملایا،1965 کی طرح اب بھی دشمن کو شکست ،عالمی سطح پر رسوائی اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ عاطف اکرام شیخ نے مزید کہا کہ پاکستان کو ترقی، خوشحالی اور قیامِ امن کے نئے سفر پر گامزن کرنے کے لیے پرعزم ہیں، ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ آئندہ نسلوں کو خوشحال، پرامن اور ترقی یافتہ پاکستان دیں ،قومی دفاع معاشی استحکام کے بغیر ممکن نہیں، محنت سے ہی ہم معاشی خود مختاری حاصل کر سکتے ہیں ،اندرونی و بیرونی چیلنجز کے مقابلے کیلئے ہمیں قومی یکجہتی کو فروغ اور معیشت کو مضبوط بنانا ہوگا،ملک بھر کی بزنس کمیونٹی دشمن کی ہر مہم جوئی کے خلاف اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرامریکی صدر کا محکمہ دفاع کا نام بدل کر ’محکمہ جنگ‘ رکھنے کا اعلان یومِ دفاع: وفاقی دارالحکومت میں 31 توپوں کی سلامی؛ مزارِ قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب ڈریپ، ڈائریکٹوریٹ کوالٹی کنٹرول اور ایف آئی اے کراچی کا جوائنٹ آپریشن، بڑی تعداد میں نان رجسٹرڈ اور جعلی ادویات پکڑائی گئیں، تفصیلات و... ملک میں سیلابی صورتحال، وفاقی حکومت کا اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی مانیٹرنگ کا فیصلہ علیمہ خانم پر انڈا پھینکنے کا واقعہ، پی ٹی آئی نے اندراج مقدمہ کیلئے تھانے میں درخواست دیدی پنجاب حکومت کا گرانٹ اِن ایڈ پالیسی 2025کا اعلان، مریم اورنگزیب سربراہ نامزد جسٹس منصورکا چیف جسٹس کو خط ، 26ویں ترمیم پر فل کورٹ نہ بنانے سمیت چھ سوالات کے جوابات مانگ لیے
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سے ہی ہم معاشی خود مختاری حاصل کر سکتے ہیں قومی دفاع معاشی استحکام کے بغیر ممکن نہیں صدر ایف پی سی سی آئی خودمختاری اور کے تحفظ
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا
فیفا ورلڈکپ 2026 نے باضابطہ طور پر تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ٹورنامنٹ کا اعزاز حاصل کر لیا ہے جہاں پہلی بار 48 ٹیمیں اور مجموعی طور پر 1248 کھلاڑی میدان میں اتریں گے۔
12 جون سے شروع ہونے والا یہ میگا ایونٹ امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں کھیلا جائے گا جو ورلڈکپ کی تاریخ میں پہلی بار تین ممالک میں منعقد ہو رہا ہے۔
اس بار ٹورنامنٹ کا فارمیٹ بھی پہلے سے بالکل مختلف ہے جہاں 48 ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ میں 4 ٹیمیں شامل ہوں گی۔
مجموعی طور پر 104 میچز کھیلے جائیں گے جس سے ایونٹ مزید طویل اور سنسنی خیز ہونے کی توقع ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس ورلڈکپ میں شامل 1248 کھلاڑیوں میں سے 357 ایسے ہیں جو پہلے بھی عالمی کپ کھیل چکے ہیں جبکہ 891 کھلاڑی پہلی بار اس بڑے اسٹیج پر اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائیں گے۔
مزید پڑھیںفیفا ورلڈکپ 2026 میں کیا نئی چیزیں متعارف ہوں گی؟
فیفا ورلڈکپ: میسی مسلسل چھٹے ورلڈکپ میں ارجنٹینا کی نمائندگی کیلیے تیار
فٹبال کے بڑے نام ایک بار پھر ایکشن میں ہوں گے جن میں لیونل میسی، کرسٹیانو رونالڈو اور گیلرمو اوچوا شامل ہیں جو چھٹی مرتبہ ورلڈکپ کھیلنے کے لیے تیار ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بار چار نئے ممالک کیپ ورڈے، کوراساؤ، اردن اور ازبکستان پہلی بار ورلڈکپ کا حصہ بن رہے ہیں جس سے مقابلہ مزید غیر متوقع ہو گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس ایونٹ میں سب سے کم عمر کھلاڑی صرف 17 سال کا ہوگا جبکہ سب سے عمر رسیدہ کھلاڑی 43 سال کی عمر میں میدان میں اترے گا۔
مجموعی اسکواڈ میں 7 کھلاڑی 40 سال سے زائد عمر کے ہیں جبکہ 22 انڈر 20 پلیئرز بھی اپنی ٹیموں کی نمائندگی کریں گے۔
فیفا ورلڈکپ 2026 نہ صرف تعداد کے لحاظ سے سب سے بڑا ایونٹ بن چکا ہے بلکہ یہ فٹبال کی تاریخ میں ایک نئے دور کے آغاز کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔