سمندر پار پاکستانیوں کا اعتماد برقرار، اگست میں 3.1 ارب ڈالر کی ترسیلات زر
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
پاکستان کیلئے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے خوشخبری – اسٹیٹ بینک کے مطابق اگست 2025 میں ترسیلات زر کا حجم 3 ارب 10 کروڑ امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 6.6 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال 2025-26 کے ابتدائی دو ماہ (جولائی اور اگست) میں مجموعی طور پر 6 ارب 40 کروڑ ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں، جو پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 7 فیصد زیادہ ہیں۔ گزشتہ مالی سال کے پہلے دو ماہ میں یہ رقم 5 ارب 90 کروڑ ڈالر تھی۔
تفصیلات کے مطابق سب سے زیادہ ترسیلات سعودی عرب سے آئیں، جہاں سے پاکستانیوں نے 73 کروڑ 67 لاکھ ڈالر وطن بھیجے۔ اس کے بعد متحدہ عرب امارات کا نمبر آتا ہے، جہاں سے 62 کروڑ 29 لاکھ ڈالر، برطانیہ سے 46 کروڑ 34 لاکھ ڈالر، اور امریکا سے 26 کروڑ 73 لاکھ ڈالر کی ترسیلات زر پاکستان آئیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ بیرون ملک پاکستانیوں کے ملکی معیشت پر اعتماد اور بینکاری نظام میں بہتری کا مظہر ہے۔ ترسیلات زر نہ صرف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں مدد دیتی ہیں بلکہ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بھی سمجھی جاتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ترسیلات زر لاکھ ڈالر
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔