فیک کالز اور وٹس ایپ کے ذریعے اراکین سینیٹ کو بھی لوٹ لیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
فراڈیوں نے فیک کالز اور وٹس ایپ کے ذریعے اراکین سینیٹ کو بھی لوٹ لیا جبکہ سینیٹرز نے فوری ریکوری اور تحقیات کا مطالبہ کیا ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر علی ظفر کی زیر صدارت پی ٹی وی ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں صحافیوں پر تشدد سمیت مختلف امور زیر غور لائے گئے اور وزارت اطلاعات و نشریات کے حکام اور نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کے حکام نے تفصیلی بریفنگ بھی دی۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں حکمران جماعت کے سینیٹر عرفان صدیقی کے نام پر 9 اراکین قومی اسمبلی کو مالی فراڈ کا نشانہ بنائے جانے کا انکشاف کیا گیا۔
سینیٹرعرفان صدیقی نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ میرے نام سے اراکین سے پیسے مانگے جاتے ہیں، 9 اراکین قومی اسمبلی ان کے جھانسے میں آ گئے اور 4 مرتبہ شکایات درج کرا چکا ہوں، ابھی تک کوئی مداوا نہیں کیا گیا، ایسے مقدمات کی تحقیقات میں وقت لگتا ہے۔
قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے سینیٹر عرفان صدیقی سے ہونے والے مالی فراڈ پر این سی سی آئی اے سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔
حکام این سی سی آئی اے نے بتایا کہ سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے قواعد کی منظوری کابینہ نے دے دی ہے، اتھارٹی میں عملے کی تعیناتی کے لیے اشتہار جلد جاری کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ سینیٹر عرفان صدیقی کے کیس میں 13 لاکھ روپے ریکور کیے گئے ہیں، 4 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، اصل ملزم کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں، اسی طرح واٹس ایپ کے ذریعے ہیکنگ کے مقدمات میں 5 ماہ میں ایک کروڑ روپے ریکور کیے گئے ہیں۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر وقار مہدی نے سرکاری ٹی وی کے اینکر کے سوشل میڈیا پر سندھی قوم کے خلاف نازیبا الفاظ کے استعمال کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ سرکاری ٹیلی ویژن کے اینکر نے سندھی قوم کے خلاف نفرت انگیز وی لاگ کیا ہے، جس پر قائمہ کمیٹی اراکین نے اینکر کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کرانے کی سفارش کردی۔
حکام نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی نے قائمہ کمیٹی کو مختلف کیسز پر بریفنگ میں بتایا کہ این سی سی آئی اے نے 10 صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں، این سی سی آئی اے نے 611 مقدمات مالی فراڈ، ہراسمنٹ کے 320 مقدمات درج کئے ہیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ غیر قانونی طور پر سمز حاصل کر کے دہشت گردی کے لیے استعمال کی جارہی ہیں۔
اس موقع پر سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ سینیٹ میں ایک تقریر کے بعد میرے خلاف گالم گلوچ کا سلسلہ شروع ہو گیا، مجھے ہراساں کیا گیا، دھمکیاں دی گئیں لیکن مجھ سے کسی نے نہیں پوچھا۔
قائمہ کمیٹی میں شہریوں کے خلاف صوبوں میں پیکا ایکٹ کے تحت 372 غیر قانونی مقدمات درج ہونے کا انکشاف ہوا۔
ارکان کمیٹی نے بتایا کہ پیکا ایکٹ میں تازہ ترین ترمیم کے بعد صوبے پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج نہیں کر سکتے ہیں۔
حکام این سی سی آئی اے نے بتایا کہ پیکا ایکٹ 2025 کے بعد صوبوں میں درج ہونے والے مقدمات این سی سی آئی کو بھیجے جائیں گے، جس پر چیئرمین قائمہ کمیٹی علی ظفر نے کہا کہ یہ تمام مقدمات غیر قانونی ہیں، اب ان کا کیا کریں۔
ارکان نے کہا کہ ہمارے سامنے بات آ گئی کہ یہ مقدمات غلط اور غیر قانونی ہیں جس پر قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے صوبوں میں غیر قانونی مقدمات کے اندراج پر ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی۔
قائمہ کمیٹی اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں صحافی طیب بلوچ بھی پیش ہوئے جس پر چیئرمین قائمہ کمیٹی نے ان سے کہا کہ آپ تحریری طور پر بتائیں آپ کیا چاہتے ہیں، اگر آپ کو مکمل سنیں گے تو دوسری فریق کو بھی سننا پڑے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سی سی آئی اے نے اطلاعات و نشریات قائمہ کمیٹی نے بتایا کہ پیکا ایکٹ کے خلاف کیا گیا کہا کہ کو بھی
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔