Express News:
2026-07-24@09:20:43 GMT

اے قائد! ہم شرمندہ ہیں مگر ہارے نہیں

اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT

آج بروز 11 ستمبر ہم اُس عظیم قائد کو یاد کر رہے ہیں جسے دنیا محمد علی جناح کے نام سے جانتی ہے۔ وہ مردِ آہن، جس نے غلام قوم کو خودداری کا درس دیا اور جس کی قیادت نے برصغیر کے مسلمانوں کے دلوں میں اُمید کی وہ شمع روشن کی جو آج تک بجھی نہیں۔

پاکستان کا قیام نہ کسی حادثے کا نتیجہ تھا اور نہ ہی وقتی جوش کا ثمر، بلکہ یہ ایک ایسی جدوجہد کا حاصل تھا جس میں ایک انسان نے اپنی صحت، اپنی راحت اور اپنی خوشیاں قربان کر کے اپنی قوم کو آزادی بخشی۔

مگر افسوس! آج جب ہم اپنے گرد و پیش پر نگاہ ڈالتے ہیں تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا یہ وہی پاکستان ہے جس کا خواب قائداعظم نے دیکھا تھا؟

ہرگز نہیں! یہ وہ پاکستان ہے جہاں کرپشن کو فن، اقربا پروری کو ہنر، اور جھوٹ کو سیاست کی بنیادی شرط سمجھا جاتا ہے۔ وہ نوٹ جن پر بابائے قوم کی تصویر ہے، آج انہی سے رشوت کے سودے کیے جاتے ہیں۔ قائد کی تصویر تو باقی ہے، مگر اُن کا کردار ہم سے کھو چکا ہے۔

قائد چاہتے تھے کہ پاکستان عدل و انصاف کا مرکز بنے، جہاں ہر فرد کو باعزت زندگی ملے۔ لیکن ہم نے اس خواب کو شرمندۂ تعبیر نہ ہونے دیا۔ سیاست کو خدمت کے بجائے تجارت اور جاگیرداری میں بدل دیا گیا۔ ادارے کھوکھلے ہوگئے، عوام مایوس ہوگئے، اور حکمران اقتدار کی ہوس میں اندھے ہوگئے۔

یہ شعر آج بھی ہمارے قومی زوال کی بہترین عکاسی کرتا ہے:

مرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو
گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں

یہی المیہ ہے کہ ہم قائد کو ہر سال یاد تو کرتے ہیں، تقریریں کرتے ہیں، ترانے گاتے ہیں، لیکن اُن کے اقوال اور رہنمائی پر عمل کرنے کی ہمت ہم میں پیدا نہیں ہوتی۔ اُن کے پیغام کو ہم نے صرف کتابوں اور نصاب تک محدود کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان، جسے عزت و وقار کا نشان بننا تھا، آج قرضوں، بدانتظامی اور لاقانونیت کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔

تاہم مایوسی کی کوئی گنجائش نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں تباہی کے دہانے سے پلٹ آئی ہیں، بشرطیکہ انہوں نے خود احتسابی اور اصلاح کا راستہ اپنایا ہو۔ ہمیں اپنے اطراف کے ممالک کو دیکھ کر سبق لینا چاہیے۔ افغانستان، سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال کی حالیہ مثالیں ہمارے لیے غیرت دلانے کو کافی ہیں۔

آج بھی وقت ہے کہ ہم جھوٹ، کرپشن اور بدعنوانی کو دفن کریں، دیانت، محنت اور قربانی کو اپنائیں اور قائداعظم کے اصل پیغام کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ذلت سے نکال کر عزت و سربلندی کی صف میں کھڑا کرے گا۔

اے قائد! ہم شرمندہ تو ہیں لیکن ہارے نہیں۔ ہم عہد کرتے ہیں کہ تیرے خوابوں کے پاکستان کی تعمیر کریں گے۔ ایسا پاکستان جو دنیا بھر میں عدل و انصاف اور وقار کی علامت ہو، اور جو خلافتِ راشدہ کے اصولوں پر قائم ایک حقیقی اسلامی فلاحی ریاست کا عملی نمونہ بن کر سامنے آئے۔ ایسا پاکستان جس کی دنیا تقلید کرے، بجائے اس کے کہ ہم مغرب کی اندھی تقلید میں اپنا وجود کھو دیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • زندگی کا مقصد
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا