پاک بھارت ٹاکرا: صائم ایوب نے ناپسندیدہ ریکارڈ اپنے نام کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
پاکستان کے اوپننگ بیٹر صائم ایوب نے ٹی20 ایشیا کپ میں بھارت کے خلاف میچ کے دوران ایک ناپسندیدہ ریکارڈ اپنے نام کرلیا۔
دبئی میں کھیلے گئے میچ میں صائم ایوب اننگز کا آغاز کرنے کے لیے میدان میں اترے تو پہلی ہی گیند پر جسپریت بمراہ کو کیچ دے بیٹھے اور آؤٹ ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ: پاکستان اور بھارت کھلاڑیوں نے میچ ختم ہونے کے بعد ہاتھ نہ ملایا
صائم ایوب ٹی20 انٹرنیشنل میں 7 بار صفر پر آؤٹ ہونے والے کھلاڑی بن گئے ہیں۔ جس کے بعد وہ سب سے زیادہ بار صفر پر آؤٹ ہونے والے کھلاڑیوں میں تیسرے نمبر پر آگئے۔
اس لسٹ میں سابق کپتان بابر اعظم، محمد حفیظ اور کامران اکمل بھی تیسرے نمبر پر موجود ہیں۔
پاکستانی کھلاڑیوں میں سب سے زیادہ مرتبہ صفر پر آؤٹ ہونے والے بیٹر عمر اکمل ہیں جو 10 بار صفر پر آؤٹ ہوئے، اس کے بعد شاہد آفریدی کا نام آتا ہے جنہیں 8 بار صفر پر آؤٹ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کیخلاف قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی، فواد چوہدری بابر اعظم اور محمد رضوان کے حق میں بول پڑے
آج کے میچ میں صائم ایوب کی جانب سے پہلی وکٹ گنوانے کے بعد قومی ٹیم وکٹ پر جم کر نہ کھیل سکی اور بھارتی ٹیم کو جیت کے لیے 128 رنز کا ہدف دیا جو اس نے 3 وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا۔ اور یوں پاکستان کو پاک بھارت ٹاکرے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پاک بھارت ٹاکرا صائم ایوب قومی کرکٹ ٹیم ناپسندیدہ ریکارڈ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک بھارت ٹاکرا صائم ایوب قومی کرکٹ ٹیم ناپسندیدہ ریکارڈ وی نیوز صائم ایوب کے بعد
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔