غیر ملکی امداد سے چلنے والے منصوبے میں بے ضابطگیوں کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
غیر ملکی امداد سے چلنے والے منصوبے ہیومن کیپیٹل انویسٹمنٹ پراجیکٹ میں مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ 2024-25 کے مطابق منصوبے کے فنڈز سے کمپنی کے ذمے ودہولڈنگ ٹیکس ادا کیا گیا، جو قواعد کی خلاف ورزی ہے۔
رپورٹ کے مطابق منصوبے کے فنڈز سے 10 کروڑ 48 لاکھ 20 ہزار 313 روپے بطور ودہولڈنگ ٹیکس ادا کیے گئے۔ یہ رقم کمپنی کو اضافی فائدہ پہنچانے کے مترادف قرار دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے پنجاب کو جرائم اور کرپشن فری صوبہ بنانے کے لیے اصلاحات کا گرینڈ پیکج تیار
آڈٹ حکام کا کہنا ہے کہ مالی سال 2023-24 میں یہ بے ضابطگی کمزور نگرانی اور ناقص مالی کنٹرول کے باعث ہوئی۔ معاملہ ڈی اے سی اجلاس میں 17 دسمبر 2024 کو اٹھایا گیا، جس کے بعد آڈٹ پیرا کمپنی سے ریکوری تک کے لیے مؤخر کر دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق آڈٹ رپورٹ 2024-25 کی تیاری تک محکمہ نے مزید کارروائی کے بارے میں آڈٹ حکام کو آگاہ نہیں کیا۔
ہیومن کیپیٹل انویسٹمنٹ پراجیکٹ کیا ہے؟پنجاب حکومت، خصوصاً سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور ورلڈ بینک کی مدد سے پنجاب ہیومن کیپیٹل انویسٹمنٹ پراجیکٹ ایک 5 سالہ منصوبہ ہے۔
پنجاب کے منتخب اضلاع میں تعلیم، صحت اور سوشل پروٹیکشن کے لیے 300 ملین ڈالر کے اس پراجیکٹ کا مقصد لوگوں کو تعلیم، صحت، سماجی اور معاشی ترقی کے وسیع مواقع فراہم کرنا ہے۔
اس پراجیکٹ میں تعلیم کے شعبے میں، چھوٹے بچوں کی کلاسز جنہیں ہم ارلی چائلڈ ہڈ کیئر اینڈ ایجوکیشن (ای سی سی ای) کلاس روم کہتے ہیں، ان کے تعلیمی معیار کے حوا لے سے بہت سے اہم اقدامات شامل ہیں۔ اس پرا جیکٹ کے تحت منتخب کردہ 3400 سکولوں میں مندرجہ ذیل اقدامات کیے جا رہے ہیں:
اسکول کونسل ممبران کے ذریعے ای سی سی ای کلاس روم کے اندر درکار چھوٹی موٹی مرمت اور نئے رنگ و روغن کا کام۔
ای سی سی ای کٹ تعلیمی مواد اور بچوں کے بیٹھنے کے لیے کارپٹ اور فرنیچر (میز اور کرسیاں) کی فراہمی۔
ای سی سی ای ٹیچر کو ٹیبلٹ اور بچوں کو پڑھانے کے لیے دیگر تدریسی مواد کی فراہمی۔
یہ بھی پڑھیے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں اربوں روپے کی کرپشن، یاسمین راشد کے خلاف تحقیقات شروع
ای سی سی ای سے لے کر تیسری جماعت تک کلاس رومز میں لائبریری کارنرز بنانے کے لیے کتابوں اور الماریوں کی فراہمی۔
ای سی سی ای ٹیچر، بچوں کی دیکھ بھال کے لیے مقرر افراد، پہلی سے تیسری کلاس کے اساتذہ، ہیڈ ٹیچر، اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر اور سکول کونسل ممبران کی تربیت وغیرہ۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب مالی بے ضابطگیاں ہیومن کیپیٹل انویسٹمنٹ پراجیکٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: مالی بے ضابطگیاں سی سی ای کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔