واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 ستمبر2025ء)امریکا میں روزگار حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے ایک بری خبر سامنے آئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایچ ون بی ورکر ویزا کی سالانہ فیس میں ریکارڈ اضافہ کرتے ہوئے اسے ایک لاکھ ڈالر مقرر کر دیا ہے۔ اس اقدام کو امیگریشن کو محدود کرنے کی نئی پالیسی کا حصہ قرار دیا جارہا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں جس کے بعد کمپنیوں اور امیدواروں کو ویزا حاصل کرنے کے لیے خطیر رقم ادا کرنا ہوگی۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بعض صورتوں میں کمپنیوں پر اس سے بھی زیادہ مالی بوجھ ڈالا جا سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق اس فیصلے کا سب سے زیادہ اثر ٹیکنالوجی کمپنیوں پر پڑے گا جو بڑی تعداد میں بھارت اور چین سے ماہرین کو ملازمت دیتی ہیں۔

(جاری ہے)

رپورٹ کے مطابق ویزا فیس میں اس بے تحاشا اضافے کے باعث کمپنیوں کو عالمی سطح پر بھرتیوں کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس سے قبل ایچ ون بی ویزا کے لیے درخواست فیس محض 215 امریکی ڈالر سے شروع ہوتی تھی اور مخصوص مراحل میں یہ چند ہزار ڈالر تک جا سکتی تھی، مگر اب ایک لاکھ ڈالر کی مقررہ فیس نے کمپنیوں اور ملازمت کے خواہشمند دونوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف امریکا آنے والے ہنر مند افراد کے خوابوں کو دھچکا پہنچائے گا بلکہ امریکی ٹیکنالوجی صنعت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے لیے

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری