ہندو اور سکھوں یاتریوں کو پاکستان آنے سے روکنے کا بھارتی اقدام مذہبی آزادی کی خلاف ورزی قرار
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
مودی حکومت نے اپنے ہندو بھائیوں اور سکھوں کو بھی مذہبی رسومات ادا کرنے سے روک دیا جب کہ پردھان پاکستان سکھ گوردوارہ پر بندھک کمیٹی کے سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے بھارتی حکومت کا اقدام مذہبی آزادی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارت سے سکھ اور ہندو اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کیلئے پاکستان آتے ہیں، ہندو یاتری سکھر میں سادھومیلے میں شرکت کرتے ہیں، 3 ہزارسکھ یاتری ہرسال بھارت سے اپنی مذہبی رسومات اداکرنے کیلئے پاکستان آتے ہیں، 2500سکھ یاتری جون میں ہندوستان سے پاکستان آتے ہیں۔
مودی کی پابندیوں کے باعث2500سکھ یاتری پاکستان نا آسکے، 4نومبرکو باباگرونانک کے جنم دن پر 3ہزارسکھ یاتری پاکستان آتے ہیں، تاحال بھارت میں سکھ یاتریوں کو پاکستان آنے کی اجازت نہ ملی۔
وزیرمملکت مذہبی امورکھیئل داس کوہستانی نے کہا کہ کرتارپورہ میں باباگرونانک کی 486ویں برسی کی تقریبات آج سے شروع ہیں، مودی حکومت نے باباگرونانک کی برسی پر بھی سکھ یاتریوں کو پاکستان آنے کی اجازت نہیں دی۔
کھیئل داس کوہستانی نے کہا کہ کیا مودی حکومت سکھ یاتریوں کو باباگرونانک کے جنم دن پر اپنے شہریوں کو پاکستان آنے دے گی۔
بھارتی سکھوں کو پاکستان آنے سے روکنے پر PSGPC کا سخت ردعمل سامنے آگیا جب کہ پردھان پاکستان سکھ گوردوارہ پر بندھک کمیٹی کے سردار رمیش سنگھ اروڑہ کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا جس میں بھارتی فیصلے کے خلاف شدید تشویش کا اظہار اور مذمت کی گئی۔
اجلاس میں بھارتی فیصلے کے خلاف متفقہ قرارداد بھی منظور کی گئی، رمیش سنگھ اروڑہ نے دیگر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی ہٹ دھرمی عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے، بھارتی حکومت مذہبی رسومات سے روک کر بنیادی انسانی حقوق پامال کر رہی ہے۔
سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ بھارتی حکومت کا اقدام مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے، عالمی برادری سکھوں کی مذہبی آزادی سلب کرنے پر بھارت کو جوابدہ بنائے۔
پردھان PSGPC نے کہا کہ ایسے اقدامات سے دنیا بھر کے سکھوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے، سکھ برادری کے لیے پاکستان کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں، بھارتی حکومت اپنے ہی سکھ شہریوں کو بنیادی حق سے محروم کر رہی ہے۔
https://www.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رمیش سنگھ اروڑہ پاکستان آتے ہیں کو پاکستان آنے بھارتی حکومت مذہبی رسومات یاتریوں کو خلاف ورزی نے کہا کہ
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔