انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت کا فرق صرف 1 روپے 5 پیسے رہ گیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
ریکوڈک، کان کنی، ریفائنری سمیت دیگر منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری کی توقعات، مسلسل تیسری بار شرح سود مستحکم رہنے اور بڑھتے ہوئے ذرمبادلہ ذخائر کے باعث گذشتہ ہفتے بھی ذرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں روپے کی نسبت ڈالر کمزور رہا۔
سیلاب سے معیشت کو کوئی بڑا نقصان نہ ہونے کی اطلاعات، عالمی سطح پر دیگر اہم کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کمزور ہونے اور ملک میں انفلوز بڑھنے کی امید سے سینٹیمنٹس مثبت رہے۔
آئی ایم ایف سے 1ارب ڈالر کی قسط اور کلائمیٹ فنانسنگ منظور ہونے کی امید مارکیٹ پر اثرانداز رہی جبکہ ڈالر اسمگلنگ کے خلاف مسلسل کریک ڈاون سے طلب گاروں کی ڈیمانڈ محدود رہی۔
ہفتہ وار کاروبار کے دوران انٹربینک میں ڈالر پاؤنڈ ریال درہم میں کمی، یورو کرنسی کی قدر میں اضافہ جبکہ ریال مستحکم رہا۔
اوپن مارکیٹ میں ڈالر یورو پاونڈ ریال درہم میں کمی یورو میں اضافہ ہوا۔
ایک ہفتے میں ڈالر کی انٹربینک اور اوپن ریٹ کے درمیان فرق گھٹ کر 1.
ہفتہ وار کاروبار کے دوران انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 10پیسے گھٹ کر 281.45 روپے ہوگئی جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 10پیسے کی کمی سے 282.50روپے ہوگئی۔
برطانوی پاؤنڈ کے انٹربینک ریٹ 2روپے کی کمی سے 379.56 روپے ہوگئےجبکہ اوپن مارکیٹ میں برطانوی پاونڈ کی قدر 1.12روپے کی کمی سے 386.32روپے ہوگئی۔
انٹربینک میں یورو کرنسی کی قدر 51پیسے کے اضافے سے 330.91روپے ہوگئی جبکہ اوپن مارکیٹ میں یورو کی قدر 16پیسے کے اضافے سے 335.05روپے پر بند ہوئی۔
انٹربینک میں ریال کی قدر بغیر کسی تبدیلی کے 75.04روپے پر مستحکم رہی جبکہ اوپن مارکیٹ میں ریال کی قدر 21پیسے کی کمی سے 75.82 روپے ہوگئی۔
انٹربینک میں درہم کی قدر 04پیسے کی کمی سے 76.62روپے ہوگئی جبکہ اوپن مارکیٹ میں درہم کی قدر 26پیسے کی کمی سے 77.88 روپے ہوگئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مارکیٹ میں ڈالر روپے ہوگئی کی کمی سے ڈالر کی کی قدر
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔