کوئٹہ(نیوز ڈیسک)اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بلوچستان نے محکمہ خوراک کے افسران کے خلاف مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر گندم غبن کے سنگین اسکینڈل کا پردہ فاش کر دیا ہے اور پی آر سی سریاب میں کروڑوں روپے کی گندم کی ہیراپھیری کے انکشاف کے بعد کارروائی عمل میں لائی گئی۔

ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بلوچستان عبدالواحد کاکڑ کی خصوصی ہدایات اور ڈپٹی ڈائریکٹر انویسٹی گیشن محمد سفیان کی زیر نگرانی کی گئی تحقیقات میں بے ضابطگیوں کے شواہد سامنے آئے۔

ابتدائی تفتیش کے مطابق21 ہزار 221 بوری گندم (فی بوری 100 کلوگرام) غبن کی گئی، جس کی مجموعی مالیت تقریباً 231.

86 ملین روپے ہے۔

حکام نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران سابق ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر اور سابق اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر کو مبینہ طور پر اس گھپلے میں برابر کا شریک پایا گیا۔

اینٹی کرپشن حکام کے مطابق دونوں ملزمان نے اختیارات کا ناجائز استعمال، سرکاری امانت میں خیانت اور بدعنوانی کے سنگین جرائم کا ارتکاب کیا اور مضبوط ثبوتوں کی بنیاد پر دونوں افسران کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کو ترجمان اینٹی کرپشن نے بتایا کہ ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور مزید اہم انکشافات کا امکان ہے۔

ڈائریکٹر جنرل عبدالواحد کاکڑ نے کہا کہ بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ہمارا عزم پختہ ہے اور یہ کارروائی اسی کا ایک عملی مظہر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم قومی وسائل کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گےکیونکہ کرپشن معاشی ترقی کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اینٹی کرپشن اداروں کی صلاحیتوں کو مزید بڑھا رہی ہے تاکہ بدعنوانی کی جڑیں کاٹ دی جائیں اور عوام کو ان کا حق ملے۔

حکام نے عزم ظاہر کیا کہ بدعنوانی کے اس معاملے میں ملوث دیگر عناصر کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور صوبے میں شفافیت کے فروغ کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

Post Views: 1

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اینٹی کرپشن

پڑھیں:

جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا

بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں اور بعض سماجی و سیاسی حلقوں کے درمیان روابط موجود ہیں، جبکہ خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو مسلح سرگرمیوں میں شامل کرنا بلوچ روایات اور قبائلی اقدار کے منافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی سرپرستی میں زہریلا پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمال رئیسانی نے کہا کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب کا نام مختلف واقعات میں سامنے آتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ معاشرے کی روایات میں خواتین کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے سابق بلوچ رہنما اکبر بگٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچ خواتین کو جنگ کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔

نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ ہم جنگ میں خواتین کو استعمال نہیں کریں گے، ہیروف 2 میں شامل خودکش حملہ آور اور کمانڈر شہناز تک تمام کے تانے بانے بی وائی سی سے ملتے ہیں، جمال رئیسانی
مکمل ویڈیو فیس بک پیج پرhttps://t.co/GB5kSKBy0R#Balochistan #Quetta pic.twitter.com/GLHj40tk43

— Daily Intekhab (@Intekhabhd) June 2, 2026

رکن قومی اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ حالیہ برسوں میں بعض کم عمر لڑکیوں اور خواتین کو عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا، جو بلوچ روایات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض خودکش حملوں اور عسکری کارروائیوں میں خواتین کی شمولیت کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

جمال رئیسانی کا کہنا تھا کہ دشمن صرف ہتھیاروں کے ذریعے نہیں بلکہ سوشل میڈیا، ہیش ٹیگز، ویڈیوز اور پروپیگنڈا مہمات کے ذریعے بھی نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک منظم نیٹ ورک مخصوص بیانیے کو فروغ دے کر نوجوان نسل کی سوچ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بعض افراد اور گروہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اداروں اور ریاستی اداروں کے پاس اس حوالے سے مختلف رپورٹس اور شواہد موجود ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

جمال رئیسانی نے کہا کہ حکومت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مؤثر قانون سازی اور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو تشدد کے راستے سے دور رکھنے کے لیے ریاستی سطح پر مختلف پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی مکالمے، جمہوری عمل اور آئینی طریقہ کار میں مضمر ہے، جبکہ تشدد اور مسلح کارروائیاں نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران جمال رئیسانی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض حالیہ واقعات اور عسکری کارروائیوں میں ملوث افراد کے روابط مخصوص حلقوں سے ملتے ہیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت