بہاولنگر، مریم نواز کی ٹیکنِیکل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ فلڈ ریلیف کیمپ میں متاثرین سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب کو بریفنگ دی گئی کہ سیلاب متاثرین کے لئے 20 فلڈ ریلیف کیمپ قائم ہیں، سیلاب متاثرین کے لئے ہیلتھ کاؤنٹر قائم کیا گیا، کلینک آن ویل، موبائل ہیلتھ یونٹ مصروف کار ہیں، 40 ہزار سے زائد سیلاب متاثرین کا علاج کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی بہاولنگر میں ٹیکنیکل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ فلڈ ریلیف کیمپ آمد ہوئی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے فلڈ ریلیف کیمپ میں پیدا ہونے والے بچوں کے والدین سے ملاقات کی، مبارکباد اور بہت سی دعائیں دیں، فلڈریلیف کیمپ میں پیدا ہونے والے بچے کا نام نواز شریف اور بچی کا نام مریم رکھا گیا۔
مریم نوازشریف نے فلڈریلیف کیمپ میں صنعت زار مرکزکا دورہ کیا، وزیر اعلیٰ پنجاب نے سلائی کڑھائی کرنے والی خواتین سے خوشگوار موڈ میں گفتگو کی، مریم نوازشریف نے سلائی مشین پر کپڑے کی سلائی بھی کی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے فریم میں لگے کپڑے پر سوئی سے کڑھائی بھی کی، مریم نواز نے سلائی کڑھائی پر خوشی کا اظہار کیا۔ مریم نواز شریف نے فلڈ ریلیف کیمپ میں سیلاب متاثرین سے ملاقات کی، سیلاب متاثرین مرد و خواتین سے بات چیت کی، سہولتوں کی فراہمی کے بارے میں دریافت کیا۔
وزیراعلیٰ خواتین کے ساتھ بیٹھ گئیں، بچوں سے اظہار شفقت کیا، مریم نواز فلڈ ریلیف کیمپ کے عارضی کلاسوں میں معصوم بچوں میں گھل مل گئیں، مریم نواز شریف سے ملنے پر معصوم بچوں نے اظہارمسرت کیا۔ بچوں نے مریم نواز شریف کو پنسل سے بنے سکیچ پیش کئے، وزیراعلیٰ نے سیلاب متاثرہ خواتین اور بچوں کو تحائف پیش کیے۔ وزیر اعلیٰ نے فلڈ ریلیف کیمپ عارضی ہسپتال میں داخل مریضوں کی عیادت کی اور تحائف پیش کئے، مریم نواز نے فلڈ ریلیف کیمپ میں بچوں اور خواتین کے ساتھ دستر خوان پر کھانا بھی کھایا۔
اس موقع پر مریم نواز شریف کو ڈی جی پی ڈی ایم اے اور ڈی سی بہاولنگر نے بریفنگ دی، سیلاب سے بہاولنگر کی 26 یونین کونسلز، ایک لاکھ سے زائد آبادی متاثرہوئی، سیلاب متاثرہ علاقوں سے بروقت آبادی کا محفوظ انخلا یقینی بنایا گیا۔ مریم نواز کو بریفنگ دی گئی کہ سیلاب متاثرین کے لئے 20 فلڈ ریلیف کیمپ قائم ہیں، سیلاب متاثرین کے لئے ہیلتھ کاؤنٹر قائم کیا گیا، کلینک آن ویل، موبائل ہیلتھ یونٹ مصروف کار ہیں، 40 ہزار سے زائد سیلاب متاثرین کا علاج کیا گیا۔
وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں سے مویشی محفوظ مقام پر منتقل کئے گئے، سیلاب متاثرہ علاقوں میں 10 کلو کے 15 ہزار 795 بیگ فراہم، 1198 سائلیج، 399 ٹن بھوسہ، توڑی فراہم کی گئی۔ مریم نواز شریف کوبریفنگ دی گئی کہ سیلاب کی آمد کے پیش نظر منہ کھر کی بیماری کے سدباب کے لئے 37 لاکھ 70 ہزار چھوٹے بڑے جانوروں کی ویکسی نیشن، منہ کھر کی بیماری سے بچاؤ کے لئے 5 ملحقہ اضلاع سے بفر زون قائم کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سیلاب متاثرین کے لئے فلڈ ریلیف کیمپ میں نے فلڈ ریلیف کیمپ مریم نواز شریف سیلاب متاثرہ کہ سیلاب شریف نے کیا گیا
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔