Express News:
2026-06-03@03:13:11 GMT

جمہوریت کے ثمرات سے محروم عوام

اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT

اقوام متحدہ کے زیر اہتمام دنیا میں منائے جانے والے جمہوریت کے عالمی دن پر پاکستان میں بھی جمہوریت کے دعویداروں نے بڑے بڑے بیانات دیے اور جمہوریت کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملائے اور کہا کہ آئین ہر ایک کو تحفظ دیتا ہے جب کہ ایسا ہے نہیں اور تحفظ ہر شہری کو تو نہیں خاص لوگوں کو ضرور حاصل ہے۔

کہا گیا کہ جمہوریت بنیادی حقوق کا تحفظ کرتی ہے جب کہ عوام کو بنیادی حقوق حاصل ہیں ہی نہیں تو کیسا تحفظ اور کون سے بنیادی حقوق؟ بنیادی حقوق جو عوام کو آئین نے دیے ہیں وہ عوام جمہوریت کے نام پر اسمبلی ایوانوں میں بیٹھے ہیں یا وہ بااثر اہم عہدوں پر تعینات اہم سرکاری افسر ہیں جو عوام کے ٹیکسوں پر عوام پر حکمرانی بھی کر رہے ہیں اور عوام کے نام پر عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں اور بنیادی حقوق کے لیے انھوں نے بیرون ملک وہاں کی شہریت بھی لے رکھی ہے اور اپنی فیملیز اور سرمایہ باہر منتقل بھی کر رکھا ہے اور پاکستان میں وہ عوام پر حکم چلانے کے لیے اعلیٰ عہدوں پر تعینات ہیں۔

 حکمران اشرافیہ کے ایک پیغام میں کہا گیا ہے کہ جمہوریت روشن مستقبل کی ضمانت ہے مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ کن کا روشن مستقبل؟ کیونکہ عوام کا تو یہاں مستقبل ہے ہی نہیں، تو روشن مستقبل تو صرف ایوانوں میں موجود ان کے نمایندوں کا ہی نظر آتا ہے جن کی جب چاہے حکومت مراعات اورکئی گنا تنخواہ آئی ایم ایف سے پوچھے بغیر بڑھا دیتی ہے مگر جب عوام کو بجلی و گیس میں کچھ ریلیف دینے کی بات ہو یا سیلاب متاثرین کو بجلی بل میں رعایت دینا حکومتی مجبوری ہو تو آئی ایم ایف کی منظوری درکار ہوتی ہے۔

حکومت ارکان اسمبلی کے بعد وزیروں، بیوروکریٹس اور ججز پر مہربان ہو کر تنخواہیں بڑھانا چاہے بڑھا دیتی ہے مگر اسے عوام کے بنیادی حقوق یاد نہیں آتے اور بڑے عہدوں پر تعینات ان بڑوں کو خیال آتا ہے کہ ہم تو حکومت سے مفت بجلی، گیس، پٹرول اور دیگر مراعات لے ہی رہے ہیں کچھ مراعات عوام کو بھی حکومت سے دلوا دیں کہ جنھیں مراعات کی ہم سے زیادہ ضرورت ہے اور ہم حکومت سے کہیں کہ آئین عوام کو بھی جمہوریت کے نام پر بنیادی حقوق دینے کی بات کرتا ہے تو ہمارے ساتھ ان کا بھی خیال کر لیا جائے۔

بیورو کریٹس اور ججزکا تو جمہوریت سے کوئی تعلق نہیں، جمہوریت سے تعلق تو صرف عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والوں کا ہی بنتا ہے۔

عوام کا تو اپنے نمایندوں کو جمہوریت کے نام پر ووٹ دے کر ان سے تعلق ختم ہو جاتا ہے اس لیے منتخب نمایندے ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ ایوانوں میں جا کر اپنے مفادات کو ترجیح دیں اور اپنا تحفظ کریں تو وہ متحد ہو کر کر لیتے ہیں، انھیں یہ خیال نہیں آتا کہ حکومت ہر بجٹ میں عوام پر ٹیکس لگا کر مہنگائی بڑھاتی ہے وہ بجٹ میں اس کی مخالفت ہی کر لیں تاکہ عوام کو فائدہ ہو مگر وہاں بھی وہ عوام کے بجائے حکومت کے مفادات کا ساتھ دیتے ہیں تاکہ نئے ٹیکسوں سے حکومت کی جو آمدنی بڑھے وہ آمدنی حکومت کو عوام کے بجائے ان ہی پر خرچ کرے۔

 جمہوریت کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ وہاں صرف اپنی بات کرتے ہیں یا خاموش رہتے ہیں۔ سرکاری دستاویزات پڑھے بغیر اس کی توثیق کر دیتے ہیں اور حکومت ان سے منٹوں میں درجنوں من پسند بل منظورکرا لیتی ہے کیونکہ ایوانوں میں یہی جمہوریت رائج ہے جس کے ثمرات سے صرف عوام ہی محروم رہتے ہیں۔

اپوزیشن کو بھی جمہوریت اس وقت یاد آتی ہے جب انھیں حکومت کی مخالفت میں شور شرابا کرنا، بجٹ و دیگر سرکاری دستاویزات پھاڑنی اور ایوان میں اچھالنی ہوں مگر جب سب کے مفاد کی بات ہو سب ایک ہو کر حکومتی مراعات قبول کر لیتے ہیں اور اپوزیشن اپنے ہفتوں کے بائیکاٹ کی مراعات اور تنخواہیں بھی وصول کر لیتی ہے اور یہ سب جمہوریت کے نام پر ہوتا ہے جس سے مستفید بھی یہ جمہوریت کے دعویدار ہوتے ہیں اور عوام محروم رہ کر اپنے نمایندوں کی طرف دیکھتے رہ جاتے ہیں۔

عالمی یوم جمہوریت کے موقع پر حکمران جمہوریت کا اپنی مرضی کا چہرہ پیش کرتے ہیں کیونکہ اس جمہوریت کو حکمران اشرافیہ ترقی کی اساس قرار دیتی ہے، تو پی ٹی آئی جمہوریت کے عالمی دن پر خاموش رہتی ہے کیونکہ ان کی جمہوریت صرف اپنے بانی کی رہائی، افغان دہشت گردوں کی حمایت اور حکومتی اداروں کی مخالفت ہی جمہوریت ہے جس کی وہ جدوجہد کر رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جمہوریت کے نام پر ایوانوں میں بنیادی حقوق عوام کو عوام کے رہے ہیں ہیں اور

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان