City 42:
2026-07-24@04:26:52 GMT

صدر اور وزیراعظم کی سعودی عرب کے قومی دن پر مبارکباد

اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT

ویب ڈیسک: صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی عرب کے عوام اور حکومت کو آج ان کے قومی دن کے موقع پر دلی مبارکباد دی ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات اعتماد، خلوص اور اخوت کی بنیاد پر قائم ہیں، سعودیہ میں اسلام کے دو مقدس ترین مقامات خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کی موجودگی کی وجہ سے سعودی عرب کے ساتھ ہمارا مضبوط روحانی تعلق ہے۔

گرین ٹاؤن ؛ سسرالیوں کا خاتون پر تشدد ؛بھوئیں اور سرکے بال مونڈ دیے

انہوں نے کہا ہے کہ سکیورٹی اور دفاع کے شعبوں میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان شراکت داری نہ صرف ہمارے باہمی اعتماد کی آئینہ دار ہے بلکہ خطے میں امن اور استحکام کی جانب بھی ایک اہم قدم ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف:
علاوہ ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی عرب کے قومی دن کے موقع پر خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان اور سعودی عوام کو مبارکباد پیش کی ہے۔

بیٹ کی بندوق سے شوٹنگ کیوں کی، صاحب زادہ نے سچ سچ بتا دیا

وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ریاض کے حالیہ دورے کے دوران انہیں اور پاکستانی وفد کو ملنے والا والہانہ استقبال اور محبت بھری مہمان نوازی باعثِ فخر ہے۔

انہوں نے سعودی قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات دین اسلام، تاریخ، بھائی چارے اور اعتماد کی بنیاد پر قائم ہیں جو ہمیشہ قائم رہیں گے۔

شہباز شریف نے کہا ہے کہ سعودی عرب شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں ترقی کے عظیم سفر پر گامزن ہے اور آج عالمی برادری میں اس کا بلند مقام بصیرت اور دانشمندی کی مثال ہے۔

مغلپورہ، جھپٹا مار 2 خواتین گرفتار

وزیراعظم نے مزید کہا ہے کہ مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران سعودی عوام اور قیادت کی جانب سے اظہارِ یکجہتی پاکستانی قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔

شہباز شریف کے مطابق پاکستانی عوام سعودی عرب کے معاشی تعاون کو کبھی فراموش نہیں کرسکتے جس نے پاکستان کی معیشت کو سہارا دیا، لاکھوں پاکستانی سعودی عرب کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں اور وہاں کی تعمیر و ترقی میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔

اپنے پیغام کے اختتام پر وزیراعظم نے کہا ہے کہ پاکستان اس دیرپا شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے لیے پرعزم ہے، انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ سعودی عرب کو ہمیشہ ترقی اور عظمت سے نوازے۔ 

وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم؛ درخواست دینے والے سٹوڈنٹس کیلئے بڑی خبر

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سعودی عرب کے نے کہا ہے کہ شہباز شریف اور سعودی

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری