آئی ٹی سی این ایشیا 2025 کا کراچی میں آغاز ہوگیا، اہم معاہدوں کا بھی امکان
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
کراچی:
آئی ٹی سی این ایشیا 2025 کی تین روزہ نمائش کا آج سے کراچی ایکسپو سینٹر میں آغاز ہوگیا، وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کام کے ٹیک ڈیسٹی نیشن پاکستان کے تحت نمائش میں کثیر الملکی سرمایہ کار شرکت کر رہے ہیں۔
ایس آئی ایف سی کی آئی ٹی سیکٹر میں جدت اور تکنیکی استعداد بڑھانے کی کوششیں رنگ لانے لگی ہیں۔ نمائش میں برطانیہ، ترکیہ، آذربائیجان، سعودی عرب، چین، امریکا سمیت دیگر ممالک کے وفود شریک ہوں گے۔
ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کے تحت آئی ٹی سیکٹر نوجوانوں کے روزگار میں اضافے کے لیے کوشاں ہے۔
نمائش میں اہم معاہدوں کے ذریعے ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے گا۔ ایونٹ عالمی سطح پر پاکستان کو جدید ’’آئی ٹی اور ٹیلی کام ہب‘‘ کے طور پر روشناس کروائے گا۔
آئی ٹی سیکٹر میں ترقیاتی اقدامات اور ڈیجیٹل معیشت کی مضبوطی میں ایس آئی ایف سی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آئی ٹی سی
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔