فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے سوشل میڈیا پر اپنی عالیشان زندگی اور دولت کی نمائش کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا پر دولت کی نمائش کرنے والوں کا ڈیٹا اکٹھا، ایف بی آر بڑی کارروائی کے لیے تیار

واضح رہے کہ ایف بی آر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنی پرتعیش گاڑیوں، بنگلوں، زیورات اور دیگر مہنگی اشیا کی نمائش کرنے والے افراد کا ڈیٹا جمع کر رہا ہے۔

اس  اقدام کا مقصد ٹیکس چوری کو روکنا اور آمدن کے ذرائع کی تصدیق کرنا ہے۔

کریک ڈاؤن کا دائرہ کار کیا ہے؟

ایف بی آر کے مطابق  پہلے مرحلے میں ایک لاکھ امیر افراد کا آڈٹ کیا جائے گا اور اس میں وہ افراد شامل ہیں جو شادیوں پر بے تحاشا اخراجات کرتے ہیں جیسے کہ ہزاروں ڈالرز کے مہنگے ملبوسات پہننا اور بارات کے موقعے پر بے تحاشا پیسہ اچھالنا۔

غور طلب بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اپنی دولت کی نمائش کرنے والوں میں سے اکثر افراد اپنے انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کراتے۔

مزید پڑھیے: کیا راولاکوٹ سے شروع ہونے والی ’آسان شادی تحریک‘ کامیاب ہو پائے گی؟

ایف بی آر کا کہنا ہے کہ جن افراد کے اخراجات اور ظاہر کردہ آمدن میں واضح فرق ہوگا ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے لیے ایف بی آر نے ایک جامع حکمت عملی تیار کی ہے جس کے تحت سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور دیگر افراد کی مالی سرگرمیوں کی چھان بین کی جائے گی۔

کریک ڈاؤن کا طریقہ کار

ایف بی آر کے ترجمان ڈاکٹر نجیب میمن کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ فی الحال کسی قسم کی مخصوص شارٹ لسٹنگ نہیں کی گئی تاہم بورڈ کے صوبائی دفاتر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے متعلقہ علاقوں میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔

ڈاکٹر نجیب میمن نے کہا کہ ہمارے علاقائی دفاتر اپنے دائرہ اختیار میں موجود افراد کی چھان بین کریں گے اور دیکھیں گے کہ کون سوشل میڈیا پر اپنی دولت کی نمائش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد متعلقہ افراد کو نوٹس جاری کیا جائے گا اور ان کی دولت کے ذرائع اور ٹیکس ادائیگیوں کی تحقیقات کی جائیں گی۔

عمل درآمد کیسے ہوگا؟

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے کہ انسٹاگرام، یوٹیوب اور ٹک ٹاک سے ڈیٹا اکٹھا کیا جائے گا تاکہ انفلوئنسرز اور دیگر افراد کی مالی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جا سکے۔

جن افراد کی دولت اور اخراجات مشکوک پائے جائیں گے انہیں نوٹسز جاری کیے جائیں گے تاکہ وہ اپنی آمدن کے ذرائع واضح کریں۔

آمدنی و اخراجات میں فرق پر کارروائی

اگر آمدن اور اخراجات میں فرق پایا گیا تو متعلقہ افراد کے خلاف ٹیکس چوری کے الزامات کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد کا مسجد میرج ہال اور فری کلینک سفید پوش افراد کے لیے ایک نعمت

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کریک ڈاؤن کے لیے ایف بی آر کو کئی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے جیسے کی ڈیٹا کی توثیق کیوں کہ بہت سے کیسز میں سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی دولت غیر حقیقی بھی ہوسکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایف بی آر سوشل میڈیا پر نمائش شادیوں میں بے تحاشا اخراجات.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایف بی ا ر سوشل میڈیا پر نمائش شادیوں میں بے تحاشا اخراجات دولت کی نمائش کرنے والوں سوشل میڈیا پر کریک ڈاؤن ایف بی آر افراد کی پر اپنی کے خلاف کے لیے

پڑھیں:

میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔

سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار

ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
  • کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر کریک ڈاؤن تیز، 5600 سے زائد ملزمان گرفتار
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل