ایف بی آر کا سوشل میڈیا پر دولت کی نمائش کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ، طریقہ کار کیا ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے سوشل میڈیا پر اپنی عالیشان زندگی اور دولت کی نمائش کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا پر دولت کی نمائش کرنے والوں کا ڈیٹا اکٹھا، ایف بی آر بڑی کارروائی کے لیے تیار
واضح رہے کہ ایف بی آر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنی پرتعیش گاڑیوں، بنگلوں، زیورات اور دیگر مہنگی اشیا کی نمائش کرنے والے افراد کا ڈیٹا جمع کر رہا ہے۔
اس اقدام کا مقصد ٹیکس چوری کو روکنا اور آمدن کے ذرائع کی تصدیق کرنا ہے۔
کریک ڈاؤن کا دائرہ کار کیا ہے؟ایف بی آر کے مطابق پہلے مرحلے میں ایک لاکھ امیر افراد کا آڈٹ کیا جائے گا اور اس میں وہ افراد شامل ہیں جو شادیوں پر بے تحاشا اخراجات کرتے ہیں جیسے کہ ہزاروں ڈالرز کے مہنگے ملبوسات پہننا اور بارات کے موقعے پر بے تحاشا پیسہ اچھالنا۔
غور طلب بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اپنی دولت کی نمائش کرنے والوں میں سے اکثر افراد اپنے انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کراتے۔
مزید پڑھیے: کیا راولاکوٹ سے شروع ہونے والی ’آسان شادی تحریک‘ کامیاب ہو پائے گی؟
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ جن افراد کے اخراجات اور ظاہر کردہ آمدن میں واضح فرق ہوگا ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے لیے ایف بی آر نے ایک جامع حکمت عملی تیار کی ہے جس کے تحت سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور دیگر افراد کی مالی سرگرمیوں کی چھان بین کی جائے گی۔
کریک ڈاؤن کا طریقہ کارایف بی آر کے ترجمان ڈاکٹر نجیب میمن کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ فی الحال کسی قسم کی مخصوص شارٹ لسٹنگ نہیں کی گئی تاہم بورڈ کے صوبائی دفاتر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے متعلقہ علاقوں میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔
ڈاکٹر نجیب میمن نے کہا کہ ہمارے علاقائی دفاتر اپنے دائرہ اختیار میں موجود افراد کی چھان بین کریں گے اور دیکھیں گے کہ کون سوشل میڈیا پر اپنی دولت کی نمائش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد متعلقہ افراد کو نوٹس جاری کیا جائے گا اور ان کی دولت کے ذرائع اور ٹیکس ادائیگیوں کی تحقیقات کی جائیں گی۔
عمل درآمد کیسے ہوگا؟سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے کہ انسٹاگرام، یوٹیوب اور ٹک ٹاک سے ڈیٹا اکٹھا کیا جائے گا تاکہ انفلوئنسرز اور دیگر افراد کی مالی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جا سکے۔
جن افراد کی دولت اور اخراجات مشکوک پائے جائیں گے انہیں نوٹسز جاری کیے جائیں گے تاکہ وہ اپنی آمدن کے ذرائع واضح کریں۔
آمدنی و اخراجات میں فرق پر کارروائیاگر آمدن اور اخراجات میں فرق پایا گیا تو متعلقہ افراد کے خلاف ٹیکس چوری کے الزامات کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد کا مسجد میرج ہال اور فری کلینک سفید پوش افراد کے لیے ایک نعمت
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کریک ڈاؤن کے لیے ایف بی آر کو کئی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے جیسے کی ڈیٹا کی توثیق کیوں کہ بہت سے کیسز میں سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی دولت غیر حقیقی بھی ہوسکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایف بی آر سوشل میڈیا پر نمائش شادیوں میں بے تحاشا اخراجات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایف بی ا ر سوشل میڈیا پر نمائش شادیوں میں بے تحاشا اخراجات دولت کی نمائش کرنے والوں سوشل میڈیا پر کریک ڈاؤن ایف بی آر افراد کی پر اپنی کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔