ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز کی خریداری، دنیا کے تین بڑے نام شامل
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ٹیکنالوجی اور میڈیا کے بڑے رہنما، بشمول اوریکل کے بانی لارے ایلیسن، ڈیل ٹیکنالوجیز کے سی ای او مائیکل ڈیل اور فاکس کارپوریشن کے سربراہ روپرٹ مرڈوک اور ان کے بیٹے لَکلن مرڈوک، ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز خریدنے کے لیے بنائے جانے والے کنسورشیم میں شامل ہوں گے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ سب بڑے معروف لوگ ہیں اور لارے ایلیسن ان میں شامل ہیں، جو ایک بہترین شخص ہیں، مائیکل ڈیل بھی اس میں شریک ہیں ، ایک صاحب اورہیں جن کا نام لَکلن ہے، وہ بھی اس کا حصہ ہیں، روپرٹ مرڈوک غالباً اس گروپ میں شامل ہونے جا رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان کی چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ انتہائی نتیجہ خیز کال” ہوئی ہے، جس سے اس سودے کو حتمی شکل دینے میں پیش رفت کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔
وہائٹ ہاؤس کی ترجمان کاکہنا تھا کہ اوریکل امریکی صارفین کے ڈیٹا اور پرائیویسی کی نگرانی کرے گا اور اس مقصد کے لیے سات رکنی بورڈ بنایا جائے گا، جس کے چھ اراکین امریکی شہری ہوں گے۔
خیال رہےکہ یہ منصوبہ اپریل 2024 میں منظور ہونے والے اس قانون کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے تحت ٹک ٹاک کی چینی پیرنٹ کمپنی بائٹ ڈانس کو اپنے امریکی اثاثوں کا تقریباً 80 فیصد حصہ امریکی سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے کا پابند کیا گیا تھا بصورت دیگر ایپ کو ملک بھر میں بین کر دیا جائے گا۔
واضح رہےکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹک ٹاک کے مجوزہ امریکی آپریشنز خریدنے کے لیے جن شخصیات کے نام سامنے آئے ہیں، ان میں دنیا کے ٹیکنالوجی اور میڈیا کے بڑے نام شامل ہیں۔
لیری ایلیسن، مشہور امریکی بزنس مین اور اوریکل کارپوریشن کے بانی ہیں، وہ دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہوتے ہیں اور ڈیٹا مینجمنٹ و ٹیکنالوجی کی دنیا میں ان کا شمار سب سے بااثر شخصیات میں کیا جاتا ہے۔
مائیکل ڈیل، امریکی کمپنی ڈیل ٹیکنالوجیز کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں، ان کی کمپنی دنیا بھر میں کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس اور آئی ٹی سلوشنز کی سب سے بڑی فراہم کنندہ سمجھی جاتی ہے۔
میڈیا انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے روپرت مرڈوک اور ان کے بیٹے لاکلان مرڈوک کا شمار بھی انتہائی بااثر شخصیات میں ہوتا ہے، روپرت مرڈوک نے نیوز کارپ اور فاکس کارپوریشن قائم کی جبکہ لاکلان مرڈوک فی الحال فاکس کارپوریشن کے ایگزیکٹو چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسر کے طور پر فرائض انجام دے رہے ہیں۔
یاد رہےکہ یہ تینوں شخصیات ٹیکنالوجی اور میڈیا کے شعبوں میں اپنی کامیابیوں کے باعث عالمی شہرت رکھتی ہیں اور اب ٹک ٹاک کے مستقبل سے جڑے اس بڑے منصوبے کا حصہ بننے جا رہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹک ٹاک کے
پڑھیں:
معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
میکسیکو کی معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر پاؤلا مارکیز اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائی گئی ہیں، جس کے بعد پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 30 سالہ پاؤلا مارکیز کی لاش 30 مئی کو ان کے گھر کے اندر سے اس وقت برآمد ہوئی جب ایک اہلِ خانہ نے انہیں بے ہوش حالت میں پایا۔ بعد ازاں طبی عملے نے موقع پر ہی ان کی موت کی تصدیق کر دی۔
ابتدائی تحقیقات میں پولیس مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے جن میں خودکشی اور ممکنہ قتل دونوں امکانات شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے تمام شواہد کا باریک بینی سے تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق پاؤلا مارکیز سوشل میڈیا پر خاصی مقبول تھیں اور مختلف پلیٹ فارمز پر ان کے فالوورز کی تعداد 20 لاکھ سے زائد تھی۔ وہ زیادہ تر لائف اسٹائل، سفر اور پرتعیش زندگی سے متعلق مواد شیئر کرتی تھیں۔
ان کی ایک حالیہ ٹک ٹاک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے اپنی زندگی سے متعلق مایوس کن انداز میں گفتگو کی تھی۔ ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ ’’میں نے جو کچھ چاہا وہ مانگا، لیکن شاید الٹا مانگا، کیونکہ جو تھوڑا بہت میرے پاس تھا وہ بھی ہاتھ سے نکل رہا ہے۔‘‘
افسوسناک خبر کے بعد ان کے والد ہیرکولیس مارکیز بالڈیرس نے فیس بک پر جذباتی پیغام میں اپنی بیٹی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ان کی ’’پیارا بیٹی پاؤلا اب اس دنیا میں نہیں رہی‘‘ اور وہ دعا گو ہیں کہ اللہ انہیں بہترین مقام عطا کرے۔
والد کی پوسٹ پر صارفین کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ بھی جاری رہا، جہاں مداحوں اور قریبی افراد نے اہلِ خانہ سے ہمدردی اور صبر کی دعا کی۔ بعد ازاں اہلِ خانہ نے تصدیق کی کہ پاؤلا مارکیز کی آخری رسومات یکم جون کو سان لوئیس پوٹوسی کے علاقے ہویچی ہوان میں ادا کی گئیں۔
پاؤلا مارکیز نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹوں میں دنیا بھر کے سفر، لگژری ٹرپس اور ایونٹس کی جھلکیاں شیئر کرکے بڑی شہرت حاصل کی تھی۔ ان کے انسٹاگرام بائیو میں درج ایک جملہ ’’انسٹاگرام اصل زندگی نہیں ہے‘‘ بھی ان کی سوچ کی عکاسی کرتا تھا۔