لبنانی وزیراعظم کی فوج کو حزب اللہ کیخلاف استعمال کرنے کے امریکی موقف کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
شام اور لبنان کے لیے امریکی صدر کے ایلچی نے دعویٰ کیا تھا کہ ہم کبھی بھی لبنانی فوج کو اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لیے مضبوط نہیں کریں گے، ہم فوج کو اس طرح سے لیس کریں گے کہ لبنانی عوام اور حزب اللہ کے خلاف اندرونی طور پر استعمال ہو۔ اسلام ٹائمز۔ لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے لبنان میں امریکی ایلچی کے مداخلت پسندانہ بیانات کے جواب میں کہا ہے کہ میں تھامس بارک کے حالیہ بیانات سے حیران ہوں جو حکومت کی سنجیدگی اور فوج کے کردار پر سوال اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے لبنان کی جغرافیائی سالمیت اور قومی خودمختاری کے تحفظ میں فوج کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مجھے پورا یقین ہے کہ فوج خودمختاری کے تحفظ اور ملک کے استحکام کو یقینی بنانے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی۔ لبنانی وزیراعظم نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ لبنانی فوج کے لیے اپنی حمایت میں اضافہ کرے، اسرائیلی حکومت کو مقبوضہ علاقوں سے انخلاء پر مجبور کرنے اور اپنی بار بار کی جارحیت کو روکنے کے لیے مزید دباؤ ڈالے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات نومبر 2024 میں جاری جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کے مطابق کیے جانے چاہئیں۔ واضح رہے کہ شام اور لبنان کے لیے امریکی صدر کے ایلچی تھامس بارک نے حزب اللہ کے خلاف اپنے تازہ ترین بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ہم کبھی بھی لبنانی فوج کو اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لیے مضبوط نہیں کریں گے، ہم فوج کو اس طرح سے لیس کریں گے کہ لبنانی عوام اور حزب اللہ کے خلاف اندرونی طور پر استعمال ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حزب اللہ کریں گے کے لیے فوج کو
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔