مذاکرات پربلاکراپنے مخالفین کو قتل کرنا اسرائیل کی پالیسی ہے،شیخ تمیم بن حمد الثانی
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے کہا ہے مذاکرات پربلاکراپنے مخالفین کو قتل کرنا اسرائیل کی پالیسی ہے،اسرائیل غزہ جنگ کو طول دیکر گریٹر اسرائیل منصوبے کو عملی جامہ پہنا رہا ہے-اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب میں امیر قطر نے اسرائیل پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا 9ستمبر کو دوحہ میں ہونے والا فضائی حملہ نہ صرف امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش تھی بلکہ یہ سیاسی قتل و غارت پر مبنی سفارتکاری کا کھلا ثبوت ہے،اپنے خظاب میں انہوں نے کہا ہے اسرائیل کے حملے میں ایک قطری شہری بھی جاں بحق ہوا اور یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ اسرائیل مذاکرات کی آڑ میں صرف اپنے سیاسی مخالفین کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی کرتا ہے،انہوں نے مزید کہا اسرائیلی وفد ہمارے ملک آکر سازشیں کرتا ہیں ،اسرائیلی وفد مذاکراتی ٹیموں کے اراکین کو قتل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ،امیر قطر نے کہا اسرائیل اپنے عوام کو یہ تاثر دے رہا ہے کہ وہ غزہ میں قیدیوں کی رہائی کیلئے مذاکرات چاہتا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے وہ غزہ کو ناقابلِ رہائش بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے،انھوں نے مزید کہا اسرائیلی قیادت دراصل جنگ کو طول دینا چاہتی ہے تاکہ گریٹر اسرائیل کے تصور کو عملی جامہ پہنایا جا سکے، نئی بستیاں بسائی جا سکیں اور مقدس مقامات کی موجودہ حیثیت کو تبدیل کیا جا سکے-
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔